زرعی شعبے میں ہدفی سرمایہ کاری سے فوڈ سسٹم میں تبدیلی ناگزیر ہے،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں ہدفی سرمایہ کاری سے فوڈ سسٹم میں تبدیلی ناگزیر ہے،زیتون اور ڈیری سیکٹر روزگار اور غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،ایف اے او کانفرنس زرعی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا،ٹھوس نتائج اور بامعنی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے مشترکہ …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں ہدفی سرمایہ کاری سے فوڈ سسٹم میں تبدیلی ناگزیر ہے،زیتون اور ڈیری سیکٹر روزگار اور غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،ایف اے او کانفرنس زرعی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا،ٹھوس نتائج اور بامعنی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےمنگل کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایف اے او کے زیرِ اہتمام ہینڈ اِن ہینڈ نیشنل ایگریکلچر انویسٹمنٹ سمٹ 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان زیتون اور ڈیری کے شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے کیونکہ یہ دونوں شعبے غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کا شعبہ خوردنی تیل کی درآمدات میں سالانہ 3 ارب ڈالر تک کمی کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ویلیو چین کے فقدان کے باعث یہ صنعت اس وقت بکھری ہوئی ہےجسے مربوط سرمایہ کاری کے ذریعے مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈیری سیکٹر میں پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہےمگر انفراسٹرکچر اور سرٹیفکیشن سہولیات کی کمی کے باعث اس شعبے کی مکمل استعداد سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیڈ ڈیری مصنوعات میں برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زیتون اور ڈیری دونوں شعبے دیہی معیشت کے استحکام، روزگار کے فروغ اور غذائی تحفظ کےحصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ایف اے او کی جانب سے منعقدہ اس کانفرنس کو زرعی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ایف اے او کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور حکومت، نجی شعبہ اور سرمایہ کار مل کر زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کے عملی حل تلاش کریں گے۔وفاقی وزیر نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ زیتون اور ڈیری کے شعبوں میں آگے بڑھ کر کردار ادا کریں تاکہ ٹھوس نتائج اور بامعنی سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت اور فوڈ سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکے۔