زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ”فصلوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور جدید زرعی ترقی“ کے موضوع پر سیمینار

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ”فصلوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور جدید زرعی ترقی“ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن، ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کی سوسائٹی آف ایکسٹینشن ایجوکیشنسٹس نے کیا

فیصل آباد۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ”فصلوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور جدید زرعی ترقی“ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن، ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کی سوسائٹی آف ایکسٹینشن ایجوکیشنسٹس نے کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایگری لفٹ کے چیف ایگریکلچر اینڈ اسٹریٹجی آفیسر عابد الیاس ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے کسان فصلوں پر بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں کی بروقت نشاندہی، پانی اور کھاد کے درست استعمال اور پیداواری اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور وسائل کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے زراعت میں درست اور بروقت فیصلوں کے نئے امکانات پیدا کئےہیں جن سے زمین کی حالت جانچنے اور آبپاشی و کھاد کی ضروریات کا تعین ممکن ہے۔ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈاکٹر بابر شہباز نے پانی کی قلت اور زرعی پیداواری لاگت میں اضافے جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل زراعت کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر اعجاز اشرف کا کہنا تھا کہ ڈیٹا پر مبنی جدید زرعی طریقوں سے کسان بروقت فیصلے کر کے دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ سیمینار میں ڈاکٹر محمد افتخار، ڈاکٹر راؤ صابر ستار، ڈاکٹر رانا محمد عامر اور ڈاکٹر شوکت علی نے بھی شرکت کی۔

 

مزید خبریں