زری سخت گیری،شرح مبادلہ کی ایڈجسٹمنٹ اورترقیاتی اخراجات میں کٹوتی جیسے میکروایڈجسٹمنٹ کی پالیسیوں سے مطلوبہ نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، ترجمان وزارت خزانہ

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہاہے زری سخت گیری،شرح مبادلہ کی ایڈجسٹمنٹ اورترقیاتی اخراجات میں کٹوتی جیسے میکروایڈجسٹمنٹ کی پالیسیوں سے مطلوبہ نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اورقومی معشیت کے کئی شعبوں میں واضح استحکام اوربڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔جمعہ کویہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ حسابات جاریہ کے خسارے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، مالی سال 2019ءمیں حسابات …

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہاہے زری سخت گیری،شرح مبادلہ کی ایڈجسٹمنٹ اورترقیاتی اخراجات میں کٹوتی جیسے میکروایڈجسٹمنٹ کی پالیسیوں سے مطلوبہ نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اورقومی معشیت کے کئی شعبوں میں واضح استحکام اوربڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے۔جمعہ کویہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ حسابات جاریہ کے خسارے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، مالی سال 2019ءمیں حسابات جاریہ کے خسارے میں 32.1فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، حسابات جاریہ کے خسارے میں 13.508 ارب ڈالر کی نمایاں کمی ہوئی جومجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) کا 4.1 فیصد بنتاہے، گزشتہ مالی سال میں یہ خسارہ 19.897 ارب ڈالر تھا جو جی ڈی پی کا 6.3 فیصد بنتاہے۔ ترجمان نے کہاکہ حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی کا رحجان بدستورجاری ہے، جاری مالی سال کے ابتدائی دومہینوں میں حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی کا تناسب 54.7 فیصد ہے،جولائی اوراگست میں حسابات جاریہ کے خسارے میں 1.292 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں حسابات جاریہ کا خسارہ 2.85 ارب ڈالر تھا۔ترجمان نے کہاکہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی برآمدات کاحجم 22.979 ارب ڈالر رہا، مالی سال 2017-18 میں برآمدات کا حجم 23.212 ارب ڈالرتھا،مذکورہ مدت میں مضبوط منفی پرائس اثرات نے مثبت مقداری اثرات کو زیرنگین رکھا جس کی وجہ سے برآمدات میں ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم جاری مالی سال کے ابتدائی دوماہ میں برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 2.79 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔