سائبر کرائمز کے خلاف ملک گیر نیٹ ورک فعال،چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر میں 15 این سی سی آئی اے سے انٹر لنک
سائبر کرائمز کے خلاف ملک گیر نیٹ ورک فعال،چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر میں 15 این سی سی آئی اے سے انٹر لنک

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):ڈیجیٹل و مالیاتی فراڈ، بلیک میلنگ اور سائبر ہراسانی کی شکایات پر روایتی پولیس کارروائی میں تاخیر کے خاتمے اور فوری قانونی ایکشن کو یقینی بنانے کے لیے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے ضلعی و شہری پولیس ایمرجنسی کال سینٹرز (15) کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مرکزی نظام کے ساتھ انٹر لنک (منسلک) کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ مختلف شہروں، اضلاع اور صوبوں میں قائم پولیس ایمرجنسی کال سینٹرز (15) کو باضابطہ طور پر این سی سی آئی اے کے کال سینٹر سے انٹر کنیکٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ون فائیو پر موصول ہونے والی سائبر کرائم سے متعلق ہر کال بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر این سی سی آئی اے کو منتقل اور کمیونیکیٹ ہو سکے۔
اس انضمام کی بدولت شہریوں کو سائبر جرائم کی رپورٹنگ کے لیے الگ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ عام شہری جیسے ہی ون فائیو پر رابطہ کرے گا تو ڈیٹا براہِ راست این سی سی آئی اے کو چلا جائے گا، جس سے آن لائن فراڈ کے کیسز میں فوری اکاؤنٹس منجمد کرانے، ڈیجیٹل شواہد محفوظ بنانے اور ہراسانی کے واقعات پر بلا تاخیر کارروائی ممکن ہو سکے گی۔







