سابق وفاقی وزیر،انسانی حقوق کے علمبردار، مصنف ،ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کی برسی پیر 19 اکتوبر کو منائی گئی ہے
سابق وفاقی وزیر، مصنف ،ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کی برسی منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):سابق وفاقی وزیر،انسانی حقوق کے علمبردار، مصنف ،ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کی برسی پیر 19 اکتوبر کو منائی گئی ہے۔
ان کی عوامی زندگی سات دہائیوں پر محیط تھی۔ ایس ایم ظفر 6 دسمبر 1930 کو برما میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل گورنمنٹ کالج لاہورسے گریجویشن اور یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1950 میں وکالت شروع کی اور جلد ہی ان کا شمار معروف وکلا ء میں ہونے لگا۔ ایس ایم ظفر ایوب خان کے دور میں قانون و پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر رہے جبکہ 2003 سے 2012 تک مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ ایس ایم ظفر صدر لاہور ہائیکورٹ بار اور سپریم کورٹ بار کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ انہوں نے 1965 کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
ایس ایم ظفر نے بہت سے اہم کیسز میں کامیابی سے وکالت کی۔وہ متعدد کتب کے مصنف اور کالم نگار بھی تھے۔ ایس ایم ظفر کی مشہور تصانیف میں میرے مشہور مقدمےاور ڈائیلاگ آن پولیٹیکل چیس بورڈ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنی خود نوشت بھی تحریر کی۔ ایس ایم ظفر نے اُردو اور انگریزی زبانوں میں 12 سے زیادہ کتب تحریر کیں ۔ معروف قانون دان ایس ایم ظفر19اکتوبر2023کو لاہورمیں انتقال کر گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی، قانونی اور سماجی حلقوں کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔








