وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا، پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا، پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا، سندھ طاس معاہدے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کے وسیع تر اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانیوں کے انتظام پر مرتب ہو سکتے ہیں، عالمی برادری کو اس معاملے کی حساسیت کا ادراک کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں ”پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو“ کے موضوع پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم اپنی شناخت دریائے سندھ کے پانیوں سے وابستہ سمجھتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کے وجود میں آنے اور دو فریقوں کے درمیان دستخط کے وقت شاید یہ تصور بھی نہیں کیا گیا ہوگا کہ چند دہائیوں بعد ایسا وقت بھی آئے گا جب بھارت قانونی تقاضوں سےلاعلم اور اخلاقی اقدار سے عاری ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ شرائط و ضوابط کا تعین کرنے والا قانونی فریم ورک ہے اور دستخط کے بعد دونوں فریقین پر قانونی طور پر قابل نفاذ اور لازم ہے۔ جب معاہدے میں یہ شرط بھی موجود ہو کہ اسے یکطرفہ طور پر منسوخ، ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو اس سے پاکستان کے مؤقف کو قانونی تقویت اور جواز ملتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ معاہدے کو نہ تو یکطرفہ طور پر تبدیل، ختم یا منسوخ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل کیا جا سکتا ہے۔ کسی تنازع کی صورت میں بھی دونوں فریق معاہدے کی شرائط و ضوابط پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے اس مؤقف کو قانونی جواز اور تقویت دی کہ معاہدے کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی انداز میں آگے بڑھایا، عالمی برادری سے رابطہ کر کے اپنا قانونی اور سفارتی موقف پیش کیا اور ایک ایسی ریاست کے طور پر اپنا مقدمہ پیش کیا جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سندھ تاس معاہدہ پاکستان اور خطے کے عوام کے لیے زندگی کی شہ رگ ہے اور اس حق کو غصب کرنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات و نشریات نہ صرف عالمی اداروں بلکہ خطے کے ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں کیونکہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کا ذریعہ ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات کے دفاع کے لیے مبینہ سرحد پار دہشت گردی کو جواز کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب کوئی پاکستانی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو وہ صرف پاکستان کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت جس نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کی لیکن کینیڈا اور دیگر ممالک میں سکھوں سمیت اقلیتوں کے خلاف ماورائے سرحد قتل و کارروائیوں کے الزامات بھی عائد ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے اور اسے قانونی، سفارتی یا اخلاقی سطح پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور متعدد ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ جب بھی یہ معاملہ عالمی سطح پر قانونی فورمز پر پیش ہوا، وہاں بھی پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن قوم ہے اور امن پر یقین رکھتا ہے تاہم بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں موجود وسیع تر مثال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی ریاست متفقہ تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود کسی پابند بین الاقوامی آبی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر سکتی ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانیوں کے انتظام اور تقسیم کے نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ اس کے ان ممالک پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے معاہدے موجود ہیں، اسی لئے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کا کام اہم ہے، تحقیقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی پیشرفت کا تاریخی، قانونی اور تذویراتی جائزہ لے کر پالیسی سازوں اور عالمی برادری کو شواہد پر مبنی تجزیہ فراہم کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے جاری کی جانے والی خصوصی رپورٹ اس بحث میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس میں سندھ طاس معاہدے کی تاریخ، بھارت کے فیصلوں کے قانونی پہلوئوں، بالائی علاقوں میں آبی انفراسٹرکچر سے متعلق پیشرفت اور پاکستان سمیت پورے خطے پر اس کے تذویراتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان عالمی برادری سے رابطے جاری رکھے گی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان کے اہم قومی مفادات کا دفاع کرتی رہے گی۔ جو ممالک بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کرتے وہ ترقی نہیں کر سکتے اور ان کے عزائم کو دنیا بخوبی دیکھ سکتی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ثالثی عدالت میں بھارت کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا، اسے سب نے دیکھا ہے۔ وفاقی وزیر نے خصوصی رپورٹ جاری کرنے پر انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لئے ادارے کے ساتھ مسلسل کام کرنے کی خواہاں ہے۔








