سندھ حکومت نے صوبے میں پانچ مرکزی تنصیبات پر مشتمل 3 کروڑ ڈالر کا بائیو گیس منصوبہ تجویز کیا ہے، جس کے تحت روزانہ ایک لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر بائیو گیس اور 63 ہزار مکعب میٹر بائیو میتھین پیدا ہونے کی توقع ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’سستی توانائی کے پائیدار متبادل کے لیے بائیو گیس کی ترقی کا منصوبہ‘‘ کے تحت حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ …
سندھ میں صاف توانائی کی پیداوار کے لیے 3 کروڑ ڈالر کا بائیو گیس منصوبہ تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):سندھ حکومت نے صوبے میں پانچ مرکزی تنصیبات پر مشتمل 3 کروڑ ڈالر کا بائیو گیس منصوبہ تجویز کیا ہے، جس کے تحت روزانہ ایک لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر بائیو گیس اور 63 ہزار مکعب میٹر بائیو میتھین پیدا ہونے کی توقع ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’سستی توانائی کے پائیدار متبادل کے لیے بائیو گیس کی ترقی کا منصوبہ‘‘ کے تحت حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد میں تنصیبات قائم کرنے کی تجویز ہے۔دستاویز کے مطابق منصوبے سے روزانہ ایک لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر بائیو گیس، 63 ہزار مکعب میٹر بائیو میتھین اور 45 ٹن حیاتیاتی کھاد پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس اقدام کا مقصد حیاتیاتی ایندھن اور پائیدار کاروباری نظام کو فروغ دینا، میتھین گیس کو فضا میں خارج ہونے سے روک کر قابل استعمال بنانا، روایتی معدنی ایندھن کے متبادل فراہم کرنا، نامیاتی کھاد تیار کرنا، ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔سرکاری تخمینوں کے مطابق یہ منصوبہ سالانہ تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح 20 سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 50 لاکھ ٹن کے مساوی اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت جانوروں کے گوبر کو آکسیجن کی عدم موجودگی میں تحلیل کرنے اور بائیو گیس پیدا کرنے کے لیے پانچ مرکزی تنصیبات قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ان تنصیبات میں گوبر جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کے نظام، نامیاتی مادے کو تحلیل کرنے والے ٹینک، خام مال کی ترسیل اور اسے سنبھالنے کا بنیادی ڈھانچہ، بائیو گیس کو بہتر بنانے اور صاف کرنے کے یونٹ، گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور کھاد کی تیاری اور جانچ کے انتظامات شامل ہوں گے۔منصوبے کا مقصد مویشیوں کے گوبر کو بائیو گیس کی پیداوار کے لیے استعمال کرنا اور روایتی توانائی کے ذرائع کے پائیدار متبادل کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
بائیو گیس اور بائیو میتھین کی پیداوار کے علاوہ ان تنصیبات سے نامیاتی کھاد بھی حاصل ہونے کی توقع ہے، جس سے پائیدار کاروباری نظام کے فروغ اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے منصوبے کے مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی۔دستاویز میں سندھ کے محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کو منصوبے کا مرکزی ذمہ دار ادارہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیوسٹاک سندھ اور محکمہ توانائی سندھ کو عمل درآمد میں شراکت دار اداروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔منصوبے کے تحت مویشیوں کے گوبر کی پراسیسنگ، حیاتیاتی ایندھن کی پیداوار اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کے ذریعے ماحول دوست روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھی تجویز ہے۔








