سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں عالمی یومِ کپاس کے موقع پر تقریب کا انعقاد ملتان۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں عالمی یومِ کپاس کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مہمان خصوصی ممبر قومی اسمبلی محمد خان ڈاہا اور سیکریٹری پی سی سی سی راؤ ولی محمد سمیت ماہرینِ زراعت، صنعت کاروں، تحقیقی اداروں کے نمائند گان اور کاشتکاروں نے بڑی …
سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں عالمی یومِ کپاس کے موقع پر تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
ملتان۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں عالمی یومِ کپاس کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مہمان خصوصی ممبر قومی اسمبلی محمد خان ڈاہا اور سیکریٹری پی سی سی سی راؤ ولی محمد سمیت ماہرینِ زراعت، صنعت کاروں، تحقیقی اداروں کے نمائند گان اور کاشتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔بدھ کو منعقدہ تقریب کا آغاز کاٹن واک سے ہوا جس میں ریسرچرز،کاشتکاروں، مختلف کمپنیوں کے نمائندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اس موقع پر زرعی ماہرین نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ کپاس کی پائیدار ترقی کے لیے تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور نجی و سرکاری شعبوں کے اشتراک کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے کیونکہ کپاس نہ صرف کسان کی معیشت بلکہ پاکستان کے صنعتی اور برآمدی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد خان ڈاہانے کہا کہ حکومت کپاس کی بحالی کے لیے مکمل طور پر کوشاں ہے اور اس سلسلہ میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) اور دیگر تحقیقی اداروں درپیش مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ آواز اٹھائیں گے اور حکومت ان تحقیقی اداروں کے ساتھ بھرپور تعا ون کرے گی۔ انہوں نے ریسرچ اداروں پر زور دیا کہ وہ فارمرز اور کاشتکاروں کو معیاری اور اچھا بیج (سیڈ) کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔سیکریٹری پی سی سی سی راؤ ولی محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کپاس ہماری قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بحالی کے لیے تحقیقاتی اداروں، پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے مابین مضبوط روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی سی سی سی کپاس کے تحقیقی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کارآمد بنائے گی۔چیئرمین پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن سہیل محمود ہرل نے اپنے خطاب میں کپاس کی تحقیق و ترقی کے لیے فنڈز میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اداروں کو مالی استحکام دیے بغیر پائیدار نتائج ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی سی آر آئی ملتان کپاس کے تحقیقی نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست کسانوں اور ملکی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کپا س کی بحالی پاکستان کی برآمدی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان صباحت حسین نے تمام معزز مہمانوں کو اپنے خطاب میں موسمیا تی تبدیلیوں کے کپاس کی فصل پر اثرات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید تحقیقی بنیادوں پر مبنی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے اور سی سی آر آئی ملتان کاشتکاروں کی رہنمائی اور موسمی سختیوں کو برداشت کرنے والی صلاحیتوں پر مبنی تحقیق کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
ڈاکٹر محمد یوسف اور حافظ حیدر رفیق نے محمود گروپ اور سی سی آر آئی ملتان کے باہمی اشتراک سے چلنے والے کامیاب منصوبے "MG-CCRI-BCI” کی اہم کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور پائیدار کاٹن کی پیداوار کے لیے اس اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مستقبل میں سی سی آر ائی ملتان کے ساتھ باہمی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔کاٹن کنیکٹ کی جانب سے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر رؤف احمد خان نے شرکت کی اور سی سی آر آئی ملتان کے ساتھ ادارے کے مضبوط باہمی تعاون و اشتراکِ عمل کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ کاٹن کنیکٹ اور سی سی آر آئی ملتان کے درمیان ڈیجیٹل ٹولز، فیلڈ ٹریننگ اور جدید سائنسی تحقیق کو باہم مربوط کرنے کی کوششیں کپاس کے پائیدار فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔تقریب میں سابق وائس پریزیڈنٹ پی سی سی سی ڈاکٹر خالد عبداللہ، سی ای او کینزو اے جی آصف مجید، سابق پر نسپل سائنٹسٹ پی اے آر سی ڈاکٹر طاہر رشید، زرعی ماہر ڈاکٹر مخدوم حمید، رانا خالد محمود، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرگینک اے جی، سعید احمد شاہ، پی اے آر سی بہاولپور کے انچارج ڈاکٹر محمد جہانگیر، ایئر یونیو ر سٹی پروفیسر ڈاکٹر غلام علی، پی سی بی اے سے اجمل چغتائی، پروگریسو فارمرز احسان لالیکا، اور دیگر نجی سیکٹرز سے سن کراپ، بائر کیمیکلز، ریڈز، بی سی آئی ،ایف اے او، سوارڈو۔ اوکا کے نمائندگان نے بھی شر کت کی اور کپاس کی پیداوار میں بہتری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں اور شرکاء نے ریسرچ لیبارٹریز، کپاس کے کھیتوں اور مختلف کمپنیوں کے اسٹالز کا معائنہ کیا۔








