سوات ،مینگورہ سرٹیفیکیشن پراجیکٹ و محکمہ زراعت توسیع کے باہمی اشتراک سےگرینڈ پرسیمَن فیسٹیول کا انعقاد
سوات ،مینگورہ سرٹیفیکیشن پراجیکٹ و محکمہ زراعت توسیع کے باہمی اشتراک سےگرینڈ پرسیمَن فیسٹیول کا انعقاد

مزید خبریں
پشاور۔ 09 اکتوبر (اے پی پی):مینگورہ سرٹیفیکیشن پراجیکٹ اور محکمہ زراعت شعبہ توسیع سوات کے زیرِ اہتمام مینگورہ بائی پاس ایلیگنٹ ہال میں گرینڈ پرسیمَن فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرٹیفیکیشن پراجیکٹ اور محکمہ زراعت کے اعلیٰ افسران، زمینداروں، کاشتکاروں، زرعی کمپنیوں، پیسٹی سائیڈ ڈیلرز اور مختلف شعبہ ہائے زراعت سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر سوات کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق تقریب سے ایڈیشنل کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نور عالم، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت سوات ڈاکٹر افتخار احمد، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرزراعت اپر سوات ڈاکٹر عدالت خان، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرزراعت شانگلہ ڈاکٹر شالم خان، ڈائریکٹر تحقیقاتی ادارہ مینگورہ سوات ڈاکٹر محمد روشن، ڈاکٹرنسیم اور کوارڈینیٹر سرٹیفیکیشن پراجیکٹ سید عمران شاہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ایڈیشنل کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نور عالم نے کہا کہ محکمہ زراعت شعبہ توسیع سوات کی جانب سے گرینڈ پرسیمَن فیسٹیول کا انعقاد قابلِ تحسین اقدام ہے۔
اس قسم کی سرگرمیوں سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی نمائش، جدید زرعی طریقوں، مارکیٹنگ، پروسیسنگ اور برآمدات حوالے مفید معلومات حاصل ہوتی ہیں، جس سے انہیں اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔مقررین نے جاپانی پھل (پرسیمَن) کی اہمیت، غذائی فوائد اور معاشی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں پرسیمَن کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں اور جدید طریقۂ کاشت، بہتر باغبانی اور بروقت زرعی رہنمائی کے ذریعے اس کی پیداوار اور معیار میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پرسیمَن سے تیار ہونے والی خشک مصنوعات اور دیگر ویلیو ایڈڈ اشیاء کے ذریعے زمینداروں کی آمدن بڑھانے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔مینگورہ سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کے سید عمران شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرسیمَن کی ویلیو ایڈیشن اور معیار کو عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے ایک خصوصی منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت پرسیمَن سے متعلق مصنوعات کے معیار اور سرٹیفیکیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہت جلد متعلقہ مصنوعات کے لیے آئی ایس او سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں مکمل کی جائیں گی، جس کے بعد معیاری مصنوعات کو دیگر ممالک کی منڈیوں میں برآمد کرنے کے مواقع مزید بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پرسیمَن کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوگا اور سوات کےزمینداروں اور کاشتکاروں کی آمدن بڑھانے میں مدد ملے گی۔ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت اپر سوات ڈاکٹر عدالت خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرسیمَن کی کاشت زمینداروں کے لیے ایک اہم معاشی موقع ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر باغبانی اور مناسب دیکھ بھال کے ذریعے اس پھل کی پیداوار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت شانگلہ ڈاکٹر شالم خان نے بھی پرسیمَن کی کاشت، پیداوار میں اضافے اور بہتر مارکیٹنگ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پھلوں کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ڈائریکٹر تحقیقاتی ادارہ مینگورہ سوات ڈاکٹر محمد روشن نے کہا کہ پرسیمَن ایک منافع بخش پھل ہے جو پاکستان میں بھی اچھی قیمت پر فروخت ہوتا ہے جبکہ اسے بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق، معیاری پیداوار، بہتر پیکنگ اور پروسیسنگ کے ذریعے اس کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر نسیم خان نے اس قسم کی مفید اور مثبت سرگرمیوں کے انعقاد پر محکمہ زراعت شعبہ توسیع سوات اور بالخصوص ڈاکٹر افتخار احمد کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پروگرام زمینداروں کو جدید زرعی معلومات اور مارکیٹ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس موقع پر لال محمد، چیئرمین پیسٹی سائیڈ کمپنیز ملاکنڈ ڈویژن نے بھی محکمہ زراعت کی خدمات کو سراہا اور زمینداروں کی رہنمائی اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے محکمہ زراعت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔فیسٹیول کے دوران مختلف زرعی ادویات اور پیسٹی سائیڈ کمپنیوں و ڈیلرز کی جانب سے خصوصی سٹالز بھی لگائے گئے، جہاں شرکاء کو زرعی ادویات، جدید زرعی مصنوعات اور کاشتکاری سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔تقریب کے اختتام پر ایڈیشنل کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نور عالم، سابق تحصیل چیئرمین کبل سعید خان اور ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت سوات ڈاکٹر افتخار احمد نے فیسٹیول میں سٹالز لگانے والے زرعی ادویات اور پیسٹی سائیڈ ڈیلرز و کمپنیوں کے نمائندوں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔شرکا نے سرٹیفیکیشن پراجیکٹ محکمہ زراعت شعبہ توسیع سوات کی جانب سے منعقدہ گرینڈ پرسیمَن فیسٹیول کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام زمینداروں کی رہنمائی، زرعی پیداوار میں اضافے، ویلیو ایڈیشن، مارکیٹنگ اور ملکی و غیر ملکی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔








