سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر گروپ کے 3 مبینہ دہشت گرد ہلاک، 2 فرار
سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر گروپ کے 3 مبینہ دہشت گرد ہلاک، 2 فرار

مزید خبریں
پشاور۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سوات پولیس نے ضلع سوات کے علاقے سخاڈوب، تھانہ کانجو کی حدود میں علی الصبح انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر مظفر عرف خالد گروپ سے تعلق رکھنے والے تین مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی تلاش جاری ہے۔سی ٹی ڈی کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی سوات ریجن کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ سیگرام، لعلو بانڈہ اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں ٹی ٹی پی کمانڈر مظفر عرف خالد گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تخریبی کارروائیوں کی غرض سے موجود ہیں۔ اطلاع کی بنیاد پر سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیموں نے ضلعی پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی۔سخاڈوب میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی اور بعدازاں قریبی مکان میں مورچہ زن ہوکر فائرنگ کرتے رہے، جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔
فائرنگ کا سلسلہ تھمنے کے بعد مکان کی تلاشی لی گئی، جہاں سے تین دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ دو ملزمان فرار ہوگئے۔سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت عبداللہ ولد سید بشر، منصور علی ولد عبدالمطلب اور غفران اللہ ولد افضل خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ عبداللہ اور منصور علی کا تعلق نیلا گرام، مٹہ سوات، جبکہ غفران اللہ کا تعلق شیدالہ، شکردرہ سوات سے بتایا گیا ہےکارروائی کے دوران ہلاک افراد کے قبضے سے تین کلاشنکوفیں، چھ میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک گیس سلنڈر، کھانے پینے کے برتن، تھانہ شکردرہ کا نقشہ اور ایک ڈائری بھی تحویل میں لی گئی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق تینوں افراد کے قومی شناختی کارڈز بھی برآمد ہوئے ہیں۔پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ دہشت گرد رواں سال پیش آنے والے متعدد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے، جن میں افضل خان گجر پر فائرنگ کا حملہ، نعمت علی خان کے گھر اور ڈیرے پر فائرنگ اور سلیم اللہ عرف ساجد نیلا گرام کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فرار ہونے والے دو افراد کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی نے کارروائی میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔








