سوڈان میں ڈرون حملوں سے شہریوں کی ہلاکتیں، اہم خدمات متاثر، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

متحدہ نے سوڈان میں مسلسل مہلک ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ بنیادی خدمات اور امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے خرطوم میں ہوائی اڈے کے قریب سمیت مختلف مقامات پر ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں ایک شہری کی ہلاکت …

اقوام متحدہ ۔20اکتوبر (اے پی پی):متحدہ نے سوڈان میں مسلسل مہلک ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ بنیادی خدمات اور امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے خرطوم میں ہوائی اڈے کے قریب سمیت مختلف مقامات پر ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں ایک شہری کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ بعض پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔اوچا کے مطابق ہفتے کے روز مغربی دارفور کے علاقے بیر سلیبا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 9 بچے شامل تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

جنوبی دارفور کے دارالحکومت نیالا میں گزشتہ جمعہ کو المواشی مارکیٹ پر ڈرون حملے میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ اسی طرح شمالی کردفان کے علاقے ابو زبد میں ہفتے کے روز ڈرون حملے میں کم از کم 4 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔اقوام متحدہ کے دفتر نے بلیو نائل ریاست کے قصبے ام درفا میں ایک طبی مرکز پر ڈرون حملے کے بعد ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے سوڈانی ہلال احمر کے ایک رضاکار کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ اوچا کے مطابق اپریل 2023 میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے سوڈانی ہلال احمر کے 25 رضاکار دورانِ ڈیوٹی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اوچا نے زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں، شہری تنصیبات، طبی مراکز اور امدادی کارکنوں کا تحفظ یقینی بنانا لازم ہے۔دوسری جانب خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والے خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق ستمبر میں مقامی غذائی اشیا کی ٹوکری کی قیمت اگست کے مقابلے میں 24 فیصد بڑھ گئی۔ کرنسی کی قدر میں کمی، ایندھن کی قلت اور تنازع کے باعث منڈیوں اور رسد کے راستوں میں رکاوٹیں قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔

اوچا کے مطابق شدید مشکلات کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت دار زندگی بچانے والی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ وسطی دارفور کی تحصیل زالنجی میں پانی کی ایک تنصیب کی مرمت کے بعد تقریباً 2,500 افراد کو صاف پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں 2,000 سے زائد خاندانوں کو پانی، صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق امداد بھی فراہم کی گئی ہے۔تاہم، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی امدادی کارروائیوں کو متاثر کر رہی ہے۔

سال کے اختتام میں تین ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باوجود سوڈان کے لیے انسانی ہمدردی کے امدادی منصوبے کو مطلوبہ فنڈز کا صرف 43 فیصد سے کچھ زیادہ حصہ موصول ہوا ہے۔ تقریباً 2.9 ارب ڈالر کی مجموعی ضرورت کے مقابلے میں اب تک 1.2 ارب ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔