خرطوم ۔17دسمبر (اے پی پی):سوڈان کے ڈیفیکٹو سربراہ اور فوج کے چیف جنرل عبد الفتاح البرھان نے اس امر پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔العربیہ کے مطابق سوڈانی وزارت خارجہ نے آرمی چیف جنرل برھان کے سعودی عرب کے دورے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔چیف جنرل عبد …
سوڈان کے فوجی سربراہ جنرل امریکی صدرکے امن منصوبے پر بات چیت کے لیے تیار

مزید خبریں
خرطوم ۔17دسمبر (اے پی پی):سوڈان کے ڈیفیکٹو سربراہ اور فوج کے چیف جنرل عبد الفتاح البرھان نے اس امر پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔العربیہ کے مطابق سوڈانی وزارت خارجہ نے آرمی چیف جنرل برھان کے سعودی عرب کے دورے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔چیف جنرل عبد الفتاح البرھان نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی ہے۔
جنہوں نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ کو سوڈان میں جنگ بندی کرانے کے لیے قائل کیا تھا۔سوڈان کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو جنرل برھان نے سراہا ہے اور امن کے لیے کوششوں اور جنگی خاتمے کے لیے ان کی خواہش کی تعریف کی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ وہ امریکی وزیر خارجہ اور سوڈان کے لیے امریکہ کے نمائندے کے ساتھ بھی اس سلسلے میں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں جو بلاشبہ ایک قابل تعریف ہدف ہے۔
جنرل برھان نے امریکی وزیر خارجہ اور امریکی نمائندہ برائے سوڈان کا بھی ان کوششوں کے حوالے سے بطور خاص ذکر کیا اور ان کی تعریف کی۔یاد رہے سوڈان میں اپریل 2023 سے خانہ جنگی جاری ہے۔ جس میں ایک طرف سوڈان کی مسلح افواج اور دوسری جانب پیرا ملٹری فورس ‘آر ایس ایف’ ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہیں۔ دونوں کی اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں سوڈانی ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ نے سوڈان میں جاری انسانی بحران کو بدترین قرار دیا ہے۔








