سویابین کی مقامی اقسام کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے 1 ارب ڈالر کا کثیر زرمبادلہ بچے گا،ڈاکٹر حافظ محمد بشیر

پاکستان پولٹری اور لائیو سٹاک کی فیڈ کی مقامی کھپت کو پورا کرنے کے لئے امریکہ، برازیل اور آسٹریلیا سے ہر سال 20 لاکھ ٹن سویابین درآمد کرتا ہے جس پر اربوں روپے کا کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے

فیصل آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):پاکستان پولٹری اور لائیو سٹاک کی فیڈ کی مقامی کھپت کو پورا کرنے کے لئے امریکہ، برازیل اور آسٹریلیا سے ہر سال 20 لاکھ ٹن سویابین درآمد کرتا ہے جس پر اربوں روپے کا کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ زرعی سائنسدان پاکستان میں سویابین کی ایسی مقامی اقسام متعارف کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی بھرپور پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔زرعی سائنسدانوں کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجہ میں سویابین کی مقامی اقسام کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے 1 ارب ڈالر کی درآمدات میں کمی سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کو ممکن بنایا جائے گا۔ سی پیک2 پر عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کا زرعی شعبہ ترقی کرے گا جس کیلئے چائنا پاک تعاون کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان چائنہ کی صنعتی و زرعی ترقی سے استفادہ حاصل کررہا ہے، اس سے نہ صرف زراعت بلکہ لائیو سٹاک، فشریز اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ان اشیاء کی برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ کاشتکاروں کی زرعی آمدن میں اضافہ سے ملکی معیشت کو استحکام حاصل ھوگا۔ ان خیالات کا اظہارچیف سائنٹسٹ تیلدار اجناس ڈاکٹر حافظ محمد بشیرنے سویابین کے قومی دن کے حوالہ سے منعقدہ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی مین لائبریری ہال میں سویابین کے قومی دن کی شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں زرعی تحقیقاتی ادارہ آئل سیڈ، این اے آر سی، نبجی کے زرعی سائنسدانوں، زرعی یونیورسٹیز کے پروفیسرز،زرعی ماہرین، ایکسپورٹرز، سالونٹ اور پولٹری انڈسٹری کے نمائندگان اور ترقی پسند کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سویابین کا قومی دن منانے کا بنیادی مقصد پاکستان میں سویابین کی کاشت کے فروغ اور پیداوار میں اضافہ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مشترکہ کاوشوں کیلئے روڈ میپ کی تیاری تھا۔ سویابین کی فصل کے تمام سٹیک ہولڈرز میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ اس فصل کی کاشت کے فروغ کے لئے کاشتکاروں کی بھرپور رہنمائی اور فصل کی بہتر قیمت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ماہر آئل سیڈ حافظ سعد بن مصطفیٰ نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال 45 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی خوراکی ضروریات بشمول دودھ اور گوشت کو پورا کرنا زرعی سائنسدانوں کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ کلائمیٹ چینج کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے زرعی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے لائیو سٹاک بالخصوص مرغی اور انڈہ کی برآمدات میں اضافہ کیلئے پولٹری فیڈ کی ہائی ویلیو کراپس مکئی، کملینا، سورج مکھی اور سویابین کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے مقامی اقسام متعارف کروائی ہیں۔ ماہرین سویابین ڈاکٹر غلام رضا، ڈاکٹر ظہیر احمد،ڈاکٹر احمد دین اور ڈاکٹر مہرالنساء این اے آر سی کے علاوہ ڈائریکٹر زراعت توسیع،چوہدری خالد محمود اور نبجی کے زرعی سائنسدانوں نے سویابین کی پیداواری ٹیکنالوجی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سویابین کی کاشت کے لئے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ضروری ہے جبکہ ہمارے ملک کے زرعی سائنسدانوں نے پاکستان میں اس کی ایسی اقسام تیار کرلی ہیں جو 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی بھرپور پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سویابین کی سال میں دو فصلیں بہاریہ اور خزاں کی کاشت شروع ہوگئی ہے۔ کاشکار سویابین کی مقامی اقسام کی متعارف کردہ پیداواری ٹیکنالوجی کے ذریعے باآسانی 35 سے 40 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے سویابین کی ویلیو ایڈیشن پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سویابین کے اجزاء سے مختلف ڈشز کی تیاری کے ساتھ سویا ملک کی کمرشلائزیشن میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کاشتکاروں نے اس تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ سالونٹ اور پولٹری انڈسٹری مکئی کی طرح مقامی سویابین کی قیمتوں کو کاشتکاروں کے لئے منافع بخش بنائے تو پھر اگلے دو سے تین سال میں پاکستان سویابین کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہوجائے گا بلکہ پولٹری فیڈ کی اضافی پیداوار بنگلہ دیش، سری لنکا، خلیجی اور مشرق وسطی کے ممالک کو ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہو جائے گا جس سے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہوگا۔ ڈاکٹر عمران اشرف، نمائندہ پرائیویٹ سیڈ کمپنی نے پاکستان میں سویابین کی کاشت کے فروغ کے لئے ہونے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کاشتکاروں کے معاشی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دانہ دانہ خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ سویابین قومی ڈے کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر خالد محمود شوق اور رانا محمد خان صدر انجمن کاشتکاران نے خصوصی شرکت کی اور کاشتکاروں کے مسائل احکام بالا تک پہنچانے کا عندیہ دیا۔

مزید خبریں