سپریم کورٹ ، سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو غیر شرعی قرار دینے کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو غیر شرعی قرار دینے کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی اور نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے معاملے …

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو غیر شرعی قرار دینے کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی اور نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آیا کوٹہ سسٹم اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے؟ عدالت نے کہا کہ آپ نے واضح طور پر بتانا ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 27 میں کوٹہ سسٹم کا واضح طور پر ذکر موجود ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوٹہ سسٹم کا 40 سالہ دورانیہ مکمل ہو چکا ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس مدت میں توسیع کے لیے قانون سازی کی جا چکی ہے۔

دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے کہ آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم موجود ہے، جس پر سرکاری وکیل نے تصدیق کی کہ صوبوں کی آبادی کے تناسب سے ہی اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ جن صوبوں کی آبادی کم ہے وہ اپنی آبادی بڑھائیں؟عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔