سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا کوئٹہ میں اسٹیٹ آفس ،پاک پی ڈبلیو ڈی کے اثاثوں اور عمارتوں کا دورہ

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹر ناصر محمود کی سربراہی میں سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے کوئٹہ میں اسٹیٹ آفس اور پاک پی ڈبلیو ڈی کے اثاثوں اور عمارتوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے میں سینیٹر شکور خان اچکزئی، سینیٹر شیخ بلال مندوخیل سمیت دیگر ممبران بھی شریک تھے۔اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری اسٹیٹ آفس ذکریا خان اور ڈی جی اسٹیٹ آفس عبیدالدین نے کمیٹی کو …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹر ناصر محمود کی سربراہی میں سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے کوئٹہ میں اسٹیٹ آفس اور پاک پی ڈبلیو ڈی کے اثاثوں اور عمارتوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے میں سینیٹر شکور خان اچکزئی، سینیٹر شیخ بلال مندوخیل سمیت دیگر ممبران بھی شریک تھے۔اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری اسٹیٹ آفس ذکریا خان اور ڈی جی اسٹیٹ آفس عبیدالدین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کی عمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے فنانس ڈویژن نے صرف 5 کروڑ روپے کی منظوری دی ہےجو کہ 20 سے 22 لاکھ سکوائر فٹ پر پھیلے اسٹیٹ آفس اور ورکس کے وسیع اثاثوں کے لیے ناکافی ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے فنڈز میں اضافے کے لیے فنانس ڈویژن کے ساتھ جلد اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری عمارتوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی غیر متعلقہ شخص سرکاری رہائش میں مقیم ہے تو فوری کارروائی کی جائے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی بلوچستان اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔بعد ازاں کمیٹی نے فیڈرل لاجز سیکرٹریٹ اور سریاب کسٹمز میں سرکاری کوارٹرز کا معائنہ کیا۔ کمیٹی ممبران نے عمارتوں کی خراب حالت اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ناخوشی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی اور دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ سرکاری رہائش کو زیادہ فعال اور آمدنی کا بہتر ذریعہ بنایا جا سکے۔

سینیٹ کمیٹی نے پی ایچ اے-ایف ریزیڈنشل پروجیکٹ کا بھی دورہ کیا جہاں ایم ڈی محمد شاہد اور پروجیکٹ ڈائریکٹر راحیل سلیم نے تعمیراتی کام پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس دوران الاٹیز نے اپنے تحفظات کمیٹی کے سامنے رکھے جس پر چیئرمین نے یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور پروجیکٹ کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

 

مزید خبریں