سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بچوں سے مشقت، کم عمری کی شادی، تشدد، بھیک منگوانے، تعلیم سے محرومی، پیدائش کے اندراج اور آن لائن استحصال سمیت بچوں کے تحفظ سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے کمیٹی کو بچوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بچوں کو آن لائن استحصال، سماجی رابطوں کے ذرائع پر بدسلوکی اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے ذریعے نشانہ بنانے جیسے نئے خطرات کا سامنا ہے۔
بریفنگ میں پیدائش کے اندراج میں مسائل، تعلیم تک محدود رسائی، بچوں سے مشقت اور تشدد و استحصال کے مقدمات میں تاخیر پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کمیٹی میں ہونے والی بحث کو عملی اقدامات اور مؤثر کارروائی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی وزارتِ انسانی حقوق، قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال اور متعلقہ حکام کے اشتراک سے صوبوں کے دورے کرے اور وزرائے اعلیٰ، متعلقہ وزارتوں اور سیکرٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے تحفظ کے لئے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لینا، درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور مؤثر پالیسی اقدامات اور قانون سازی کے لئے سفارشات مرتب کرنا ہے۔







