سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیرصدارت قومی رابطہ کاری اجلاس، گندم کے بیج کی ترسیل اورآئندہ فصل کے سیزن کیلئے سٹوریج کی صلاحیت کی منصوبہ بندی پر پیش رفت کا جائزہ

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق امیر محی الدین نے گندم کے بیج کی ترسیل، صوبوں میں بوائی کی سرگرمیوں اور آنے والے فصل کے سیزن کے لیے سٹوریج کی صلاحیت کی منصوبہ بندی پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے قومی رابطہ کاری اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور تمام صوبوں کے فوڈ ڈیپارٹمنٹس کے افسران کے …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق امیر محی الدین نے گندم کے بیج کی ترسیل، صوبوں میں بوائی کی سرگرمیوں اور آنے والے فصل کے سیزن کے لیے سٹوریج کی صلاحیت کی منصوبہ بندی پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے قومی رابطہ کاری اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور تمام صوبوں کے فوڈ ڈیپارٹمنٹس کے افسران کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ایگری ایکسٹینشن سندھ ڈاکٹر آصف علی، چیئرمین این ایس ڈی آر اے اور ڈی جی ایف ایس سی اینڈ آر ڈی محمد اعظم خان نے شرکت کی۔ پنجاب نے صوبوں میں گندم کے بیج کی ترسیل کے جائزہ کی رپورٹ دی کہ صوبے کےتمام بیج کی ضروریات پوری ہو گئی ہیں، اس میں 168,000 میٹرک ٹن نجی شعبے کے بیج اور 196,000 میٹرک ٹن پنجاب سیڈ کارپوریشن کے بیج کامیابی سے فراہم کئے گئے۔ بیج کی ترسیل میں 23,000 میٹرک ٹن بلوچستان، 82,000 میٹرک ٹن سندھ، 22,000 میٹرک ٹن خیبر پختونخوا اور 41,000 میٹرک ٹن پنجاب میں فراہم کئے گئے۔

وزانہ کنوی اور چیک پوسٹ مانیٹرنگ سے تصدیق ہوئی کہ کسی بھی صوبے میں ترسیل میں کوئی رکاوٹ یا خلل نہیں آیا۔ ایف ایس سی اینڈ آر ڈی نے پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹس کی تصدیق کی۔وزارت نے ان بیج کمپنیوں کی جانب سے اعلیٰ عدالت میں موجودہ ایس او پیز کو چیلنج کرنے والی درخواست کا بھی نوٹ لیا۔ وفاقی حکومت نے معاملے کے حل کے لیے مکمل قانونی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوسرے ایجنڈا آئٹم کے تحت صوبائی گندم کی بوائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ صوبوں نے بتایا کہ بوائی میں تیزی اور مثبت رجحان دیکھنے میں آیا جو بروقت سیلاب کے پانی کے نکلنے، زمین کی دستیابی اور سرٹیفائیڈ بیج کی بہتر فراہمی کی وجہ سے ممکن ہوا۔پنجاب زرعی شعبہ نے رپورٹ دی کہ گندم کی بوائی پوری شدت سے جاری ہے۔ کل 1.25 کروڑ ایکڑ بوائی ہو چکی ہے جو 1.65 کروڑ ایکڑ کے ہدف کا 75 فیصد ہے۔

بوائی کا سیزن آئندہ دو ہفتے جاری رہے گا جس کے دوران مقررہ ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے۔ پنجاب میں خاص رجحانات میں جلد اور بروقت بوائی شامل ہے کیونکہ سیلاب کے بعد زمین جلد دستیاب ہوئی۔ پنجاب سیڈ کارپوریشن نے فی بیگ 500 روپے سبسڈی فراہم کی جبکہ نجی بیج کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے سرٹیفائیڈ بیج کی قیمت فی بیگ 5500 روپے رہی جس سے سرٹیفائیڈ بیج کا استعمال 100 فیصد بہتر ہوا۔ سیکرٹری وزارت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے تصدیق کی کہ میڈیا نے اس سال 20 فیصد اضافی بوائی کی خبریں جاری کیں جس سے کسانوں کا ردعمل مثبت رہا نیز نیشنل ویٹ پالیسی کی فی بیگ 3500 روپے کی تجویز شدہ قیمت بھی معاون ثابت ہوئی۔سندھ میں ڈی جی ایکسٹینشن نے سرٹیفائیڈ بیج کی بہتر دستیابی کی اطلاع دی۔

کل 533,000 ہیکٹر میں بوائی مکمل ہو چکی ہے جو بوائی کی عروج کی ونڈو ہے۔ نومبر کے آخر تک صوبے میں 85 فیصد ہدف مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وفاقی فراہم کردہ سرٹیفائیڈ بیج اور تجویز کردہ قیمت پر کسانوں کا ردعمل مثبت رہا۔خیبر پختونخوا نے رپورٹ دی کہ ہدف 781,000 ہیکٹر ہے جس میں 461,000 ہیکٹر (59 فیصد) بوائی ہو چکی ہے۔ گنے اور چاول کی فصل والے علاقوں میں بوائی سست رہی تاہم نومبر کے آخر تک موسم سازگار رہنے اور ونڈو 15 دسمبر تک جاری رہنے کے سبب بوائی کی رفتار میں اضافہ متوقع ہے۔

بلوچستان میں زیادہ تر علاقوں میں ٹیو بیل آبپاشی ہوتی ہے جبکہ چند اضلاع میں نہری آبپاشی ہے جہاں چاول کے بعد بوائی ہوتی ہے۔ کل ہدف 643,000 ہیکٹر ہے جس میں تقریبا 85,000 ہیکٹر بوائی ہو چکی ہے۔ ٹیو بیل آبپاشی اور بارانی علاقوں میں بوائی اچھی رفتار سے جاری ہے اور نہری آبپاشی والے نصیر آباد ڈویژن میں بھی رفتار جلد بڑھنے کی توقع ہے۔سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کہا کہ سٹوریج کی سہولیات کی موجودہ نقشہ سازی آئندہ ہفتے بھی جاری رہے گی تاکہ مستقبل میں سٹوریج کے حوالے سے درست فیصلے کیے جا سکیں۔خیبر پختونخوا نے صوبائی محکموں اور بیورو آف سٹیٹسٹکس (بی ایس) کے گندم آٹے کی قیمت کے اعداد و شمار میں فرق پر تشویش ظاہر کی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے اس معاملے کو تسلیم کیا اور شفاف و قابل تصدیق قیمت سازی کے لیے بی ایس سے رابطہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

 

مزید خبریں