وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدی نے کہاہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای 12 میں 95 فیصد متاثرین کو معاوضے اورقبضہ دیا جا چکا ہے، بلٹ اپ پراپرٹی کے معاوضے سے متعلق قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں اسلام آباد کے سیکٹرای 12اورسی 16میں متاثرین کومعاوضوں کی ادائیگی سے متعلق انجم عقیل خان،ابراراحمداورنزہت صادق کے توجہ مبذول نوٹس پروزیرمملکت نے ایوان کوبتایاکہ …
سیکٹر ای 12 میں 95 فیصد متاثرین کو معاوضہ اورقبضہ دیا جا چکا ہے،بلٹ اپ پراپرٹی کے معاوضے سے متعلق قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدی کاقومی اسمبلی میں توجہ مبذول نوٹس پرجواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدی نے کہاہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای 12 میں 95 فیصد متاثرین کو معاوضے اورقبضہ دیا جا چکا ہے، بلٹ اپ پراپرٹی کے معاوضے سے متعلق قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں اسلام آباد کے سیکٹرای 12اورسی 16میں متاثرین کومعاوضوں کی ادائیگی سے متعلق انجم عقیل خان،ابراراحمداورنزہت صادق کے توجہ مبذول نوٹس پروزیرمملکت نے ایوان کوبتایاکہ سی ڈی اے کے سیکٹر ای 12 میں 95 فیصد متاثرین کو قبضہ دیا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ تجاوزات کے خاتمے اور ترقیاتی کاموں پر پیش رفت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ای 12 سیکٹر کا آغاز 1985ء میں ہوا اور 1990ء کی دہائی میں الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے گئے تاہم متاثرین کو قبضہ نہیں دیا جا سکا تھا،سیکٹرز کی ترقی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے سی ڈی اے میں سیکٹرز کی ترقی کے حوالے سے الگ ممبر بھی تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سیکٹر سی 16 کا آغاز 2008ء میں ہوا، اس سیکٹر میں مجموعی طور پر 2,591 متاثرین ہیں جبکہ رہائشی پلاٹوں کی تعداد 2,258 ہے۔ ان میں 885 ایک کنال اور 243 دس مرلہ کے پلاٹ شامل ہیں۔ ای 12 میں متاثرین کی زمین کے معاوضے کے لیے دو طریقہ کار ہیں جن میں زمین یا نقد رقم کی صورت میں معاوضہ دینا اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ شامل ہے۔ اس سیکٹر میں زمین سے متعلق 515 متاثرین میں سے 412 کو زمین یا نقد رقم کی صورت میں معاوضہ دیا جا چکا ہے جبکہ 80 افراد کے معاملات مختلف دعوئوں، خاندانی تنازعات اور عدالتی مسائل کے باعث زیر التواء ہیں۔ مزید 11 افراد نے تاحال معاوضے کے لیے درخواستیں جمع نہیں کرائیں۔وزیرمملکت نے کہاکہ ای 12 میں 2,251 بلٹ اپ پراپرٹیز تھیں جن میں سے تقریبا 1,800 کے معاملات نمٹا دیئے گئے ہیں۔ انجم عقیل خان کے سوال پرانہوں نے کہاکہ بلٹ اپ پراپرٹیز کے معاوضے سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد کے تینوں ارکان قومی اسمبلی کی موجودگی میں وزیر داخلہ سے بات ہوئی ہے جس میں طے پایا کہ حقیقی متاثرین کی آئندہ چند روز میں وزیر داخلہ سی ڈی اے حکام کے ہمراہ سماعت کریں گے اور ان کے مسائل فوری حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، زمین کے حصول کے وقت متاثرین کی تعداد اور بعد میں معاوضے کی فراہمی کے وقت مستحقین کی تعداد میں فرق پیدا ہوا جبکہ گزشتہ 20 سال کے دوران بلٹ اپ پراپرٹی سے متعلق قانون میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔ ان تبدیلیوں اور معاوضے کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی متاثرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے سیکٹر سی 16 کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ زمین حاصل کیے جانے کے وقت وہاں موجود گھروں اور دیگر تعمیرات کی تعداد 1,115 تھی جو اب بڑھ کر 4,600 ہو چکی ہے، یعنی ان میں تقریبا 312 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بعض تعمیرات حقیقی ضروریات کے تحت بھی کی گئی ہوں گی تاہم کچھ تعمیرات مبینہ طور پر معاوضہ یا پلاٹ حاصل کرنے کے مقصد سے کھڑی کی گئی ہیں ، اگر تمام موجودہ تعمیرات کو معاوضے کے لیے اہل قرار دے دیا جائے تو متعلقہ سیکٹر میں دستیاب پلاٹس بھی ناکافی ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ دوسرے سیکٹرز کے پلاٹس بھی فراہم کرنا پڑیں۔وزیرمملکت نے کہاکہ بلٹ اپ پراپرٹی کے معاوضے سے متعلق قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور معاوضے کا تعین زمین کے حصول اور قبضہ لینے کے وقت کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے تاکہ ناجائز دعوئوں کی روک تھام اور حقیقی متاثرین کو ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکے۔نزہت صادق کے سوال پرطلال چوہدری نے ایوان کوبتایا کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بند شہر ہے تاہم یہاں سب سے زیادہ قلت قبرستانوں کی ہے۔
تقریبا ڈیڑھ سو غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں نے عوامی استعمال کے لیے مختص پلاٹ بھی فروخت کر دیئے جن میں سکولوں، ڈسپنسریوں، پارکوں اور قبرستانوں کے لیے مختص اراضی شامل ہے۔ اسلام آباد کی منصوبہ بندی کے وقت 1961 کے قبرستان ریگولیشنز کے تحت اراضی حاصل کی جاتی تھی۔ سیکٹر ای بارہ میں آٹھ قبرستان موجود تھے جن میں سے دو سو سال سے بھی زیادہ پرانے تھے۔ متعلقہ قانون کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے اراضی حاصل کرنے کے بعد مخصوص علاقے میں مزید تدفین کی اجازت نہیں ہوتی تاہم اس کے باوجود ان قبرستانوں میں تدفین کا سلسلہ جاری رہا، سیکٹر ای بارہ کے آٹھوں قبرستانوں اور وہاں موجود تمام قبروں کو سیکٹر کے منصوبے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ منصوبے میں ضروری تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں تاکہ قبرستانوں کا تقدس برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اراضی کے حصول کے بعد قانون کے تحت مزید قبریں بنانے کی اجازت نہیں ہوتی تاہم اس کے باوجود وہاں نئی قبریں بنتی رہی ہیں۔







