سی ڈی اے اور آئی ایف سی کا اسلام آباد کے آبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال

سی ڈی اے اور آئی ایف سی کا اسلام آباد کے آبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت اورڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر ایجنسی سی ڈی اے سردار خان زمری کی نگرانی میں وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو پانی کی زیادہ موثر، قابلِ اعتماد اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد کے آبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے نمائندوں کے ساتھ اسلام آباد واٹر کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کے تکنیکی اور مالیاتی جائزے کے حوالے سے مجوزہ تعاون پر بات چیت کی گئی ہے۔

اس تعاون کا بنیادی مقصد نظام کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، بجلی کی بچت کو فروغ دینا اور آبی وسائل کا پائیدار انتظام یقینی بنانا ہے۔ہفتہ کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجوزہ اقدام کے تحت تقریباً 200 ٹیوب ویلز، 40 اوورہیڈ واٹر ٹینکس اور ان سے منسلک پمپنگ اسٹیشنز کا جامع تکنیکی اور مالیاتی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ موجودہ نظام کی کارکردگی کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ بہتری کے ممکنہ مواقع کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس جائزے میں بجلی کے استعمال، پانی کے دباؤ، پانی کی تقسیم کی کارکردگی، آپریشنل اور دیکھ بھال کے اخراجات اور پانی کی فراہمی کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ بھی شامل ہوگا۔اس اقدام کے تحت جدید سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن (SCADA) نظام متعارف کرانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ جدید ٹیکنالوجی پانی کی فراہمی کے نظام کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی، خودکار کنٹرول اور آپریشنل انتظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مجوزہ نظام کے ذریعے آپریشنل خامیوں کی نشاندہی، پانی کی تقسیم کی مؤثر نگرانی اور مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت اور ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر ایجنسی، سی ڈی اے، سردار خان زمری کی نگرانی میں اس مجوزہ اقدام کا مقصد اسلام آباد کے آبی بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے لیے قابلِ عمل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔ابتدائی جائزے کی تکمیل کے بعد تکنیکی دستاویزات کے ساتھ مالیاتی اور انتظامی فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کرنے کی تجویز ہے۔

ضروری جائزوں کی تکمیل، متعلقہ مجاز فورمز کی منظوری اور نافذالعمل قواعد و ضوابط کی پابندی سے مشروط، منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولی کا عمل اختیار کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ منتخب کمپنی کی خدمات کا دائرۂ کار، ذمہ داریاں اور دیگر معاہداتی امور حتمی معاہدے اور منظور شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق طے کیے جائیں گے۔

اس اقدام کے بنیادی مقاصد میں بجلی کے غیر ضروری اخراجات میں کمی، پانی کی فراہمی کے آپریشنز کی کارکردگی میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنا شامل ہیں۔سی ڈی اے شہر کے آبی انتظامی نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنے دستیاب وسائل بروئے کار لانے اور موزوں تکنیکی و ادارہ جاتی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

منصوبہ بند جدید کاری اور آپریشنل طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے اسلام آباد واٹر کا مقصد پانی کی فراہمی کی خدمات کو مزید قابلِ اعتماد بنانا اور آبی وسائل کے ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال کو فروغ دینا ہے۔آئی ایف سی کے ساتھ مجوزہ تعاون اسلام آباد کے لیے جدید آبی انتظامی حل کا جائزہ لینے اور ایسے قابلِ عمل اقدامات کی نشاندہی کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جن کے ذریعے آج اور آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی فراہمی کا زیادہ مؤثر، مضبوط اور پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے۔

مزید خبریں