شامی گلوکارہ اصالہ نصری نے سابق صدر بشار الاسد کی مخالفت کے باعث 15 سالہ جلاوطنی کے بعد دمشق میں شاندار کنسرٹ کے ذریعے شام واپسی کی جہاں ہزاروں مداحوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا
شامی گلوکارہ کی 15سالہ جلاوطنی کے بعد واپسی، ہزاروں مداحوں نے استقبال کیا

مزید خبریں
دمشق ۔21ستمبر (اے پی پی):شامی گلوکارہ اصالہ نصری نے سابق صدر بشار الاسد کی مخالفت کے باعث 15 سالہ جلاوطنی کے بعد دمشق میں شاندار کنسرٹ کے ذریعے شام واپسی کی جہاں ہزاروں مداحوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔عرب نیوز کے مطابق 57 سالہ گلوکارہ جو عموماً صرف ’’اصالہ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے دارالحکومت دمشق میں ہاؤس فل کنسرٹ میں پرفارم کیا۔ کنسرٹ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ بعض مذہبی قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شو منسوخ کرنے کی مہم بھی چلائی گئی۔ کنسرٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف حصہ فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کیا جائے گا۔اصالہ نے 2011 میں بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے پُرامن احتجاج کی حمایت کرنے والے ابتدائی فنکاروں میں شامل ہو کر حکومتی تقریبات میں شرکت سے انکار کیا تھا جس کے بعد انہیں شامی فنکاروں کی یونین سے نکال دیا گیا اور میڈیا مہمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔بعد ازاں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ قاہرہ منتقل ہوگئیں اور عرب دنیا کے مختلف ممالک میں موسیقی کے پروگرام کرتی رہیں۔شام کے موجودہ حکام نے بھی اصالہ کی واپسی کا خیرمقدم کیا۔ وزیر ثقافت محمد یاسین صالح نے انہیں ’’دمشق کی بیٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی واپسی ہر مخلص شامی اور ہر آزاد انسان کی واپسی ہے۔اصالہ کے کنسرٹ میں متعدد مداح جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آنکھوں میں آنسو لیے شامی پرچم لہراتے رہے۔ اصالہ کا نیا البم ’’دی سیریئن البم‘‘ شام کے تمام 14 صوبوں کے لوک گیتوں پر مشتمل ہے جس میں ملک کے ثقافتی تنوع کو اجاگر کیا گیا ہے۔








