شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے متعارف کرائے جائیں، برقی چولہوں کی مقامی تیاری اور مراعات سے گیس پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین ایس ڈی پی آئی کاسیمینار سے خطاب

شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے متعارف کرائے جائیں، برقی چولہوں کی مقامی تیاری اور مراعات سے گیس پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین ایس ڈی پی آئی کاسیمینار سے خطاب

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں گیس کی قلت، مہنگے درآمدی ایندھن اور گھریلو فضائی آلودگی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے ماہرین نے شمسی توانائی سے چلنے والے برقی چولہوں کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سستے برقی چولہوں کی مقامی تیاری اور حکومتی مراعات کے ذریعے نہ صرف گیس پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ خواتین اور بچوں کو مضر دھوئیں سے بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔یہ بات یہاں پاکستان میں برقی چولہوں کے استعمال کو فروغ دینے کے موضوع پر منعقدہ قومی مشاورتی ورکشاپ کے دوران کہی گئی۔

ورکشاپ کا اہتمام نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) اورپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے مشترکہ طور پر کیا جبکہ اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP)، جدید توانائی کے ذریعے کھانا پکانے کی سہولتوں کے فروغ کے پروگرام اور برطانیہ کے ادارے یوکے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نے اس سرگرمی میں معاونت فراہم کی۔اجلاس میں سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ شرکا نے

ایس ڈی پی آئی کے ایک آزمائشی منصوبے کے نتائج کا جائزہ لیا اور ملک بھر میں برقی چولہوں کے استعمال کو وسعت دینے کےلئے پالیسی تجاویز مرتب کرنے کیلئے آرا ء پیش کیں۔ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان کے بیشتر گھرانے اب بھی کھانا پکانے کےلئے لکڑی، گوبر اور دیگر حیاتیاتی ایندھن استعمال کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں کاربن مونو آکسائیڈ سمیت کئی مضر گیسیں پیدا ہوتی ہیں جو انسانی صحت کےلئے خطرناک ہیں جبکہ شہری علاقوں میں گیس کی قلت ایک سنگین بڑا مسئلہ ہے جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بلند قیمتوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے برقی چولہوں کا استعمال ایک قابلِ عمل حل بن سکتا ہے۔ اس سے درآمدی گیس پر انحصار کم ہو گا، گیس کی غیر یقینی فراہمی کے باوجود کھانا پکانے کا متبادل میسر آئے گا۔ انہوں نے نجی شعبے کے کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ مقامی کھانوں اور روایتی طریقہ پکوان کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر، محفوظ اور کم قیمت برقی چولہے تیار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ڈی پی آئی نے اس منصوبے کے ذریعے صرف ابتدائی تجربہ کیا ہے اب نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو اسے بڑے پیمانے پر آگے بڑھانا چاہئے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پالیسی سازی، قانون سازوں سے رابطوں اور مقامی آبادی کے ساتھ کام کرنے کےلئے ایس ڈی پی آئی کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل کے شعبہ توانائی سے وابستہ اقتصادی امور کی افسر فادیہ احمدی نے کہا کہ گھروں کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ 2019 سے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 7 (SDG7) کے حصول کےلئے روڈ میپ تیار کرنے میں معاونت کر رہا ہے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے شعبہ توانائی کے سربراہ انجینئر عبید الرحمٰن ضیا نے کہا کہ پاکستان میں برقی چولہوں کے لئے مارکیٹ کے اندر مثبت رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی آئی نے اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن کے تعاون اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کی رہنمائی میں ایک مارکیٹ سٹڈی مکمل کی ہے ۔برطانیہ کی لافبرو یونیورسٹی میں جدید توانائی کے ذریعے کھانا پکانے کے پروگرام (MECS) کی ٹیم کے ساتھ وابستہ گلوبل الیکٹرک کوکنگ کولیشن (GECCO) کی سیکرٹریٹ کی عالمی منتظم ایلیشیا بٹر فیلڈ نے کہا کہ برقی چولہے کھانا پکانے کے مؤثر ترین طریقوں میں شامل ہیں اور اکثر دوسرے ایندھن کے مقابلے میں کم خرچ ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اب توجہ محدود پیمانے پر کئے جانے والے آزمائشی منصوبوں سے آگے بڑھ کر ان سہولتوں کو بڑے پیمانے پر عام کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے تاہم لوگوں کے رویوں اور کھانا پکانے کی عادات میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔کوئٹہ میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹسز (IDSP) کی ڈاکٹر قرۃ العین بختیاری نے کہا کہ پاکستان کی خواتین مٹی کے روایتی چولہوں سے برقی چولہوں تک کا طویل سفر طے کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے برقی چولہے ان کی زندگیوں میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے سینئر پالیسی مشیر نور احمد نے تمام شریک اداروں اور وفاقی و صوبائی محکموں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک ماہرین نے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں اور اس شعبے کے معاشی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔