صدر آصف علی زرداری کی جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات، پاکستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط، تعمیری شراکت داری کے لیے دوطرفہ تعاون کو جامع انداز میں وسعت دینے پر زور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان موجودہ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے دستیاب امکانات سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برلن۔23اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان موجودہ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے دستیاب امکانات سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے معیشت اور تجارت، جدید ٹیکنالوجیز، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، ہنرمندی کے فروغ اور عوامی و ثقافتی تبادلوں پر خصوصی توجہ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔جمعہ کو ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار برلن میں جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کے دوران کیا۔صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر کا دورے کی دعوت دینے اور اپنے و وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ جرمنی کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔

انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ پاکستان مسلسل تعمیری روابط کے ذریعے موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط، مستحکم اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔صدر مملکت نے اس اہم دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ 23 سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے جو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جرمنی کو یورپ میں اپنااہم شراکت دار سمجھتا ہے اور خواتین کو بااختیار بنانے، سماجی تحفظ اور انسانی ترقی کے شعبوں میں جرمنی کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان روایتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے جرمنی کے ساتھ سائنسی ترقی، صحت عامہ، تعلیم، فنی تربیت، ٹیکنالوجی کے فروغ، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، کاروبار و صنعت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے سمیت مختلف شعبوں میں جدید اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومتی سطح، کاروباری اداروں اور ماہرین کے درمیان روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔صدر مملکت نے امریکہ اور ایران کے تنازع میں پاکستان کے مخلصانہ ثالثی کردار کے جرمنی کی جانب سے اعتراف پر صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں تنازعات کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور تعمیری مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے اہم موقع پر صدر آصف علی زرداری کے دورہ جرمنی کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ انہوں نے حال ہی میں پشاور میں سکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔جرمن صدر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور جرمنی دوطرفہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، تعلیم کے شعبے میں تعاون اور تکنیکی اشتراک کو آگے بڑھانے کے لیے کاروبار اور تجارت کے شعبوں میں مزید مؤثر کوششوں کے ساتھ روابط جاری رکھیں گے۔جرمن صدر نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو سراہا۔ صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے جرمنی واپس بھیجے جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق کے عمل میں سہولت فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی۔

انہوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے پر بھی پاکستان کو سراہا۔دونوں صدور نے افغانستان سے متعلق چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، تاہم پاکستان دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر حملے کرنے اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔جرمن صدر کی خصوصی دلچسپی کے جواب میں صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معاہدہ علاقائی تنازعات کے بجائے علاقائی سلامتی کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔صدرآصف علی زرداری نے جرمن صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جس پر جرمن صدر نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔وفود کے بغیر ملاقات کے بعد دونوں صدور کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ پاکستانی وفد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سندھ کے صوبائی وزراء شرجیل میمن اور جام خان شورو، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف شامل تھے۔اس سے قبل جرمن وزارت دفاع میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر بھی موجود تھے۔

 

مزید خبریں