اسلام آباد ۔ 10 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں قرآن اور اسوہ حسنہ کا آئین تھا،علماءاور آئمہ کرام نے دنیا کو بدل دیا اور اسی پیلٹ فارم سے پاکستان مدینہ کی ریاست بنے گی،بھارت میں تمام اقلیتیں دباﺅ کا شکار ہیں،آج مقبوضہ کشمیر کی حالت دنیا کے سامنے ہے،مدینہ کی ریاست کی گردان کا مقصد یہ خواہش ہے کہ …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا جشن میلاد النبی کے موقع پر عالمی رحمتہ اللعالمین کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں قرآن اور اسوہ حسنہ کا آئین تھا،علماءاور آئمہ کرام نے دنیا کو بدل دیا اور اسی پیلٹ فارم سے پاکستان مدینہ کی ریاست بنے گی،بھارت میں تمام اقلیتیں دباﺅ کا شکار ہیں،آج مقبوضہ کشمیر کی حالت دنیا کے سامنے ہے،مدینہ کی ریاست کی گردان کا مقصد یہ خواہش ہے کہ اس منزل کی طرف جائیں جو نبی ﷺ نے ہمیں دکھائی ہے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں دور ہوں،انصاف، عورتوں کے حقوق، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، مسلمانوں کے دکھ دردکو بانٹنے کا نام ریاست مدینہ ہے اور ہم مرحلہ وار اس جانب بڑھ رہے ہیں ، آہستہ آہستہ قانون سازی اور اس پر عملدرآمد سے ریاست مدینہ کے خواب کی تکمیل ہوگی۔ اتوار کوجشن میلاد النبی کے موقع پر منعقدہ عالمی رحمتہ اللعالمین کانفرنس سے کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یہ میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ نبی ﷺ کی میلاد کی تقریب ہے جس میں ریاست مدینہ کے تصور پر بات کر سکوں۔ نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات مجھے راسخ العقیدہ مسلمان بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی ہر چیز اللہ کے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ 1997 میں جب ہم لوگ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے نتھیا گلی میں جمع ہوئے تو وہاں پر اس بات پر بات ہوئی کہ ہم کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔وہاں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما بھی تھے تاہم وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا تصور ریاست مدینہ سے شروع ہوتا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، عمران خان ریاست مدینہ پر کامل یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نبی سے محبت میں صحابہ اپنی پوری زندگی ان کی تقلید میں گزارتے ان کی محبت کا مقام یہ تھا کہ نبی کو جو کھانا شوق سے کھاتے دیکھتے ساری زندگی وہی کھاتے، یہ مومن کی ایمان کی صفات میں سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کیلئے احساس پروگرام شروع کیا ہے۔انہوں نے نبی کے دور کا ایک واقع سنایا جس میں حضور پر صحابہ کی محفل میں یہ وحی نازل ہوئی کہ کون ہے جو اللہ کو قرض دے گا، اس پر صحابہ نے دریافت کیا کہ اللہ کو کوئی کیسے قرض دے سکتا ہے ،اللہ کے رسول نے بتایا کہ اللہ کی مخلوق پر خرچ کرکے یہ قرض دیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہتر واپس کرتا ہے اس محفل میں بیٹھے ایک صحابی نے رسول سے کہا کہ وہ اپنا باغ اللہ کو قرض دیتے ہیں وہ وہاں سے اپنے گھر گئے تو گھر چونکہ باغ میں تھا اس لئے اس کے باہر کھڑے ہوکر اپنی اہلیہ کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر اس گھر سے باہر آجاﺅ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض میں دے دیا ہے۔نبی کے احکامات کی پیروی کرنے والوں کی ایسی حالت تھی۔انہوں نے کہا کہ عمرا ن خان کو یہ طعنہ دیا جارہا ہے کہ وہ ریاست مدینہ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم پانچ وقت نماز میں یہ دعا مانگتے ہیں یا اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا اسی طرح وہ ریاست مدینہ کی گردان کرتے ہیں ان کی یہ خواہش ہے کہ شیطان ان سے دور رہے اور وہ اس منزل کی طرف جائیں جو نبی نے ہمیں دیکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا اس وقت اپنی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے، رجب طیب اردوان،مہاتیر محمد اور عمران خان ان کے لیڈر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ پر بہت ظلم ہوا ہے ان ممالک میں تباہ کاریاں ہیں ،لاکھوں مسلمان شہید ہوئے ہیں،کشمیر کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کرتار پور راہداری کھولنے اور بابری مسجد کی جگہ مندر کیلئے دینے کے فیصلے دنیا نے دیکھے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اقلیتوں کا خیال رکھا ہے۔1992 میں جس بابری مسجد شہید کی گئی وہ دنیا نے دیکھا ،صدر مملکت نے کہا کہ اس وقت ہمارے نزدیک ہر مسلمان کے درد کا مداوا ریاست مدینہ میں ہے۔ریاست مدینہ کا خواب دیکھنے والے ممالک میں یہ درد ہونا چاہیے۔ایک طرف ہم نے کرتار پور راہداری کھولی جو قیام پاکستان کی روح کے مطابق اقلیتوں کو ان کے مذہبی مقامات پر آزادی سے عبادت و زیارت کا اقدام تھا دوسری طرف بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔کشمیریوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کا مقدمہ بھر پور انداز میں لڑ کر یہ ثابت کیا کہ ریاست مدینہ میں مظلوموں کے حق میں آواز کیسے بلند کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں عورتوں کو مکمل حقوق حاصل تھے جبکہ یورپ میں اب ان حقوق کی بات کی جاتی ہے۔اسلام نے ان حقوق کی پیروی نہ کرنے والوں کو جہنمی قرار دیا،یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عورتوں کو ان کے حقوق دیں، اس ضمن میں علماءکردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ نبی نے دریا کے کنارے وضو کرنے پر پانی کے کم سے کم استعمال کی ضرورت پر زور دیا،وہ صفائی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے، انہوں نے صحت و صفائی کی خصوصی تعلیم دی۔صدر مملکت نے کہا کہ آئندہ ہفتے وہ صحت ،تعلیم اور مذہبی امور کے وزراءکو مدعو کررہے ہیں جہاں ان سے مسجد کو صحت اور تعلیم کے حوالے سے مرکز بنانے پر بات ہوگی۔نبی نے ایسے تمام کام مسجد سے کئے پاکستان میں ریاست مدینہ کی طرف تبدیلی کیلئے سماجی مسائل جن میں صحت ،تعلیم اور گڈ گورننس شامل ہے علماءاور عائمہ اس کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں،اس پلیٹ فارم نے دنیا کو بدلا اگر پاکستان بدلا تو اسی تصور سے بدلے گا۔








