اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معیشت کے لئے برآمدات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے نئے اور غیر روایتی شعبوں پر بھی توجہ دی جائے، موجودہ حالات میں ملکوں کے تعلقات مذہب و ثقافت سے زیادہ کاروباری مفادات کی بنیاد پر فروغ پاتے ہیں، افغانستان میں امن و تعمیر نو …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ٹرافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معیشت کے لئے برآمدات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے نئے اور غیر روایتی شعبوں پر بھی توجہ دی جائے، موجودہ حالات میں ملکوں کے تعلقات مذہب و ثقافت سے زیادہ کاروباری مفادات کی بنیاد پر فروغ پاتے ہیں، افغانستان میں امن و تعمیر نو سے پاکستانیوں کیلئے بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے، مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے۔ وہ جمعرات کو یہاں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ٹرافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک کی معیشت کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے برآمدات کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں اور تاجروں پر زرو دیا کہ وہ ملکی مصنوعات کو منفاع بخش بنانے کے لئے ویلیو ایڈیشن پر پوری توجہ دیں، ہماری برآمدات زیادہ تر زرعی اجناس کے گرد گھومتی ہیں، ملک میں منافع بخش اور کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کو ترجیح دینی چاہیے، اس حوالے سے روایتی فصلوں اور اجناس کے لئے غیر روایتی اور جدید شعبوں پر بھی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملکوں کے تعلقات مذہب و ثقافت سے زیادہ کاروباری مفادات پر مبنی ہوتے ہیں، اس حوالے سے مسئلہ کشمیر پر مسلمان ممالک کا ردعمل سب کے سامنے ہے جن کے بھارت کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہیں یا پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہیے اور ٹیکنالوجیز کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہیے، یہ برآمدات کو بڑھانے میں انتہائی سودمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کاروباری اور صنعتوں پر زور دیا کہ نوجوانوں بالخصوص خواتین کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں، اس طرح اپنے ورکرز کے لئے ماحول کو سازگار بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کا خصوصی خیال رکھا جائے، اس سے ان کے کاروبار میں برکت پید اہو گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کی وباء کے دوران پاکستان کی معیشت دیگر ممالک بالخصوص بھارت کے مقابلے میں بہت بہتر رہی، اس کا تعلق حکومت کی سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی کے علاوہ غریب اور کمزور طبقات کے لئے احساس پروگرام سے بھی ہے جس کے تحت غریب اور ضرورت مند خاندانوں کو بروقت امداد دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی۔ صدر ملکت نے کہا کہ ہمیں صنعت، کاروبار اور اکیڈیمیا کے مابین ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھنا ہو گا جس سے معیشت کو متنوع بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صنعتکاروں اور تاجروں کے لئے بہت مواقع ہیں، افغانستان میں جنگ سے افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچا ہے لیکن اب افغانستان میں امن اور تعمیر نو کے آغاز سے افغانستان کے بعد سب سے زیادہ مواقع بھی پاکستان کے لئے پیدا ہوں گے، ان مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کو تیاری کرنی چاہیے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے ایوارڈز حاصل کرنے والے تاجروں اور صنعتکاروں کو مبارکباد پیش کی۔








