اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا ہے کہ صنعتوں کے حالات بہتر کرکے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف لوگوں کو امداد کی بجائے روزگار کے مواقع دینا چاہتے ہیں، سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد ہے، سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد ہے۔ ہفتہ کومیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم …
صنعتوں کے حالات بہتر کرکے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر
اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا ہے کہ صنعتوں کے حالات بہتر کرکے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف لوگوں کو امداد کی بجائے روزگار کے مواقع دینا چاہتے ہیں، سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد ہے، سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد ہے۔
ہفتہ کومیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو صنعتوں کے مسائل کا پورا ادارک ہے، معاشی حالات کی وجہ مشکل فیصلے کئے اور صنعتوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے، ملک کے مشکلات حالات میں صنعتی شعبہ نے قوم کا بھرپور ساتھ دیا،روزگار دینے والی صنعتوں نے زیادہ شرح سود، زیادہ بجلی کے ریٹ اور زیادہ ٹیکسوں کا سامنا ہے،صنعتی شعبہ کے گزشتہ تین سال میں بڑے محدود وسائل اور مشکلات میں گزارے،اب وزیراعظم شہباز شریف گروتھ پر ترجیحات متعین کر رہے ہیں۔
ہارون اختر نے کہا کہ صنعتوں کے حالات بہتر کرکے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف لوگوں کو امداد کی بجائے روزگار کے مواقع دینا چاہتے ہیں، جب تک کارخانے نہیں چلیں گے روزگار نہیں ملے گا،حکومت کو احساس ہے کہ پاکستان کی پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر 10.5 فیصد پر آگئی ہے لیکن ابھی بھی یہ زیادہ ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام کی وجہ مشکلات تھیں لیکن ریلیف کی بھرپور کوششیں جاری ہیں،صنعتوں کے لیے پاکستان میں ابھی بھی ٹیکس بہت زیادہ ہے،زیادہ ٹیکس کی وجہ صنعت عالمی مقابلے کی سکت نہیں رکھتی، آئی ایم ایف فنڈ پروگرام میں رہتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ریلیف کے اقدامات نظر آئیں گے۔
ہارون اختر نے کہا کہ محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی تقرری سے پارلیمنٹ کا حقیقی کردار نظر آنے کی توقع ہے،سینیٹ اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کی تنقید ہی جمہوریت کا حسن ہے،اپوزیشن کی تنقید سے ہی حکومت اپنی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔ہارون اختر نے کہا کہ سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد ہے،موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور کارکردگی کی بنیاد پر 3 سال کے بعد ووٹ کے لیےعوام میں جائے گی،ہر حکومت کو گرانے کی کوششیں کریں گے تو ملک کبھی مستحکم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے لیے پورے ملک کےصنعتکار اور تاجر مساوی ہیں،وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختون خوا میں بھی روزگار کے مساوی مواقع دینا چاہتے ہیں،وزیراعظم خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر میں روزگار کے مواقع زیادہ فراہم کرنے پر زوردیتے ہیں،خیبر پختونخوا کے صنعت کاروں اور تاجروں کے شکوے بھرپور طریقے سے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے صنعت کاروں اور تاجروں کے کئی مسائل فوری حل کیے اور وہ بڑے خوش ہوکر گئے ہیں،خواتین صنعت کار سب سے زیادہ پر عزم اور متحرک ہیں۔









