طبی ماہرین کا ڈبہ بند غذائی مصنوعات پر انتباہی لیبل لازمی لگانے کا مطالبہ

طبی ماہرین نے صارفین کو خوراک کے حوالے سے باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینے اور پاکستان میں خوراک سےمتعلق غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی پیکنگ کے اگلے حصے پرسائنسی شواہد پر مبنی انتباہی لیبلز کی تنصیب لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ہونے والی مجموعی اموات میں سے …

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):طبی ماہرین نے صارفین کو خوراک کے حوالے سے باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینے اور پاکستان میں خوراک سےمتعلق غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی پیکنگ کے اگلے حصے پرسائنسی شواہد پر مبنی انتباہی لیبلز کی تنصیب لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ہونے والی مجموعی اموات میں سے تقریباً 47.22 فیصد غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں جو احتیاطی طبی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور صحت بخش خوراک کے فروغ کے لیے پالیسیوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔

ڈاکٹروں اور صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈبہ بندغذائی مصنوعات پر نمایاں اور واضح انتباہی لیبلز صارفین کو ایسی مصنوعات کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہو، جس سے انہیں صحت بخش انتخاب کرنے میں آسانی ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ سادہ اور آسانی سے سمجھ آنے والے انتباہات خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ صارفین کے لیے خوراک کی پیکنگ پر درج پیچیدہ غذائی معلومات کو سمجھنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کا ضرورت سے زیادہ استعمال موٹاپے، ٹائپ ٹوذیابیطس، امراض قلب اوردیگر دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک ہے، جس سے افراد، خاندانوں اور صحت کے نظام پر بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پیکنگ کے اگلے حصے پر انتباہی لیبلز لازمی قرار دینے سے غذائی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی اپنی مصنوعات میں غیر صحت بخش اجزا کی مقدار کم کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، جس سے صحت بخش غذائی ماحول کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی غذائی پالیسیوں اور عوامی آگاہی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وزارت صحت عامہ کے تحفظ کے لیے صحت بخش غذائی انتخاب کے فروغ اور احتیاطی طبی اقدامات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

ماہرین نے مطالبہ کیا کہ انتباہی لیبلز کے ذریعے قابل اعتماد معلومات کی فراہمی اور صارفین کے لیے مختلف غذائی مصنوعات کا موازنہ آسان بنانے کے لیے سائنسی شواہد اور واضح غذائی معیار پر مبنی شفاف ضوابط وضع کیے جائیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لیبلنگ کے ایسے اقدامات کے ساتھ غذائیت سے متعلق تعلیم، آگاہی مہمات اور صحت بخش خوراک کے انتخاب کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں سمیت صحت عامہ کے وسیع تر اقدامات بھی جاری رکھے جائیں۔ماہرین نے کہا کہ خوراک سے متعلق صحت کےخطرات میں کمی اور پاکستان بھر میں صحت بخش طرز زندگی کے فروغ کے لیے حکومت، طبی ماہرین اور متعلقہ فریقین کی مربوط کوششیں ضروری ہیں۔