طلبہ علم، تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کو یقینی بنائیں،پروفیسر ڈاکٹرذوالفقارعلی

طلبہ علم، تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کو یقینی بنائیں،پروفیسر ڈاکٹرذوالفقارعلی

فیصل آباد۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتے ہوئےاپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کو یقینی بنائی۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اور آفس آف چیف ہال وارڈن کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ پیچیدہ مسائل کو سمجھنے، جدید اور مؤثر حل تلاش کرنے اور ملک کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق اور کردار سازی پر بھرپور توجہ دیں تاکہ زراعت، موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، پانی کی قلت اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں جیسے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل، خصوصاً زراعت اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ طلبہ کی صلاحیتوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو روایتی اندازِ فکر سے آگے بڑھنے اور جدید علم، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے خود کو آراستہ کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں اور تحقیق، مقابلوں، ہم نصابی سرگرمیوں اور معاشرے سے جڑے اقدامات میں فعال طور پر حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی، تحقیق اور جدت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ ایسے باصلاحیت پیشہ ور، محقق، کاروباری افراد اور قائدین بن کر ابھریں گے جو پاکستان اور عالمی برادری کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تحقیقی منصوبوں، مقابلوں، سیمینارز، انٹرن شپ، ہم نصابی سرگرمیوں اور معاشرتی خدمت کے پروگراموں میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو کسی مسئلے کی نشاندہی، اس کی وجوہات کو سمجھنے اور اس کا عملی حل تجویز کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ایسی نوجوان نسل سے وابستہ ہے جو جدت طرازی اور ذمہ دارانہ قیادت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل ساجد نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے لیے واضح اہداف مقرر کریں، اپنی تعلیم کے ساتھ مستقل مزاجی سے وابستہ رہیں اور خود اعتمادی کے ساتھ جدید اور اختراعی سوچ کو فروغ دیں۔

مزید خبریں