وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کا حصول حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، طویل المعیادبنیادوں پر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے مالیاتی وفاقیت سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے،صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اضلاع میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان …
طویل المعیادبنیادوں پر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے مالیاتی وفاقیت سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی کاسی ای اوسمٹ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کا حصول حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، طویل المعیادبنیادوں پر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے مالیاتی وفاقیت سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے،صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اضلاع میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
جمعرات کویہاں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ ان گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے، پالیسی ریٹ اور مہنگائی میں کمی آئی ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو میں بتدریج بہتری آئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے،عالمی معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں و رسد سے متعلق دباو کے باوجود یہ مثبت پیش رفت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری بھی حوصلہ افزا ہے تاہم اب ضروری ہے کہ استحکام کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کیا جائے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پائیدار ترقی ایسی ہونی چاہیے جس کے ثمرات صرف بالائی طبقے تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات اس سے مستفید ہوں،برآمدات پر مبنی ترقی سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینے اور ملک کو بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنے سے بچنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری اور برآمد کنندگان سے مسلسل مشاورت کر رہی ہے اور ان کی تجاویز کی روشنی میں مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بھی کاروباری افراد اور برآمد کنندگان سے ملاقاتیں کرتے ہیں تاکہ ان کے مسائل کو سمجھ کر کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں ،حالیہ بجٹ میں کاروباری شعبے کو ٹیکس میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے اور سالانہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی، آئی ٹی شعبے کے لیے برآمدات پر حتمی ٹیکس نظام کے تحت 0.5 فیصد ٹیکس کی سہولت مزید تین سال کے لیے برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس بھی ختم کیا گیا ہے۔
وزیرمملکت نے کہاکہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے بھی بجٹ میں اقدامات کیے گئے، انکم ٹیکس کی تقریبا تمام سلیبز میں شرحیں کم کی گئیں ،تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کردیا گیا اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ سکیم اور طویل مدتی فنانسنگ اسکیم سمیت دیگر سہولتوں کے لیے بھی بجٹ میں خاطر خواہ وسائل مختص کیے گئے ہیں، جن سے کاروباری ادارے استفادہ کر رہے ہیں۔توانائی کے شعبے میں تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے استعمال کا رجحان تبدیل ہو رہا ہے اور بیٹری ٹیکنالوجی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے مختلف پہلوں سے متعلق مسائل کے حل اور کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کسی بھی ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ مقامی کاروباری ادارے خوشحال ہوں اور پاکستان میں پہلے سے کام کرنے والی کمپنیوں کے تجربات سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام دیں۔ انہوں نے کہاکہ نظام میں اعتماد کا فقدان موجود ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے اس اعتماد کو بحال کرے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ سول سروس میں بھرتیوں، اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتی، افسران کی کارکردگی جانچنے اور ترقی دینے کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ وزیراعظم کی ترجیحات میں باصلاحیت، متحرک اور مخلص افراد کی بھرتی اور انہیں برقرار رکھنا شامل ہے تاکہ اہم عہدوں پر تعینات افسران مسائل حل کرنے اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ موثر انتظامی نظام، کاروباری ماحول میں بہتری اور حکومتی اداروں پر اعتماد کی بحالی سے نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ طویل المعیادبنیادوں پر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے مالیاتی وفاقیت سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے۔ صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اضلاع میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے ا
س ضمن میں قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق بحث، صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈز کے موثر نفاذ، مقامی حکومتوں اور مزید انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق جاری مباحث بھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک وسائل کی تقسیم اور ان کے استعمال کے اختیارات کو نچلی سطح تک موثر انداز میں منتقل نہیں کیا جائے گا، مطلوبہ ترقیاتی نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ جہاں وسائل کی ضرورت ہےوہاں وسائل کی دستیابی اور ان کے استعمال کے اختیارات یقینی بنانا ہوں گے، بصورت دیگر ہم ان بڑے مسائل کو حل نہیں کر سکیں گے جو نہ صرف ہماری معیشت بلکہ شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی اہم ہیں۔







