سائبر سکیورٹی کے بین الالقوامی ادارے کیسپرسکی لیب اور وی ڈی سی ریسرچ کے مطابق عالمی توانائی شعبہ تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور آئندہ دو برسوں میں اس کا تقریباً 75 فیصد حصہ ڈیجیٹل ہونے کا امکان ہے تاہم اس پیش رفت کے ساتھ سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی نمایاں طور پر بڑھ رہے ہیں
عالمی توانائی شعبہ دو برس میں تقریباً 75 فیصد ڈیجیٹل ہونے کا امکان ہے، کیسپرسکی اور وی ڈی سی ریسرچ کی مشترکہ رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):سائبر سکیورٹی کے بین الالقوامی ادارے کیسپرسکی لیب اور وی ڈی سی ریسرچ کے مطابق عالمی توانائی شعبہ تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور آئندہ دو برسوں میں اس کا تقریباً 75 فیصد حصہ ڈیجیٹل ہونے کا امکان ہے تاہم اس پیش رفت کے ساتھ سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی نمایاں طور پر بڑھ رہے ہیں۔ کیسپرسکی اور وی ڈی سی ریسرچ کی تازہ ترین مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ ’انرجی شعبے میں سائبر سکیورٹی کا نفاذ‘ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں توانائی کے شعبے کے 5 فیصد سے بھی کم ادارے مکمل طور پر ڈیجیٹل ہیں تاہم آئندہ دو برسوں میں یہ شرح تیزی سے بڑھ کر تقریباً 75 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ’’ڈیجیٹل بگ بینگ‘‘ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام کو یکسر تبدیل کر رہا ہے جس سے کارکردگی، بھروسے اور پائیداری میں نمایاں بہتری آئے گی تاہم یہی ڈیجیٹل رابطہ جو نظام کو حقیقی وقت میں بہتر بناتا ہے، سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق توانائی کے شعبے کی نصف سے زائد تنظیمیں ایسے سائبر حملوں کا شکار ہو چکی ہیں جن سے انہیں ایک ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ یہ صرف ڈیٹا چوری نہیں بلکہ آپریشنل تسلسل اور پاور گرڈ کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے جو اس اہم انفراسٹرکچر کو درپیش مالی اور آپریشنل خطرات میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ توانائی کمپنیاں مارکیٹ میں اتار چڑھائو، ریگولیٹری تقاضوں اور نئے توانائی ذرائع کے انضمام کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا سہارا لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خودکار ڈرونز اور روبوٹکس بھی معائنہ کے عمل کو محفوظ اور موثر بنا رہے ہیں جس سے بجلی کے نظام کی کارکردگی اور بھروسے میں اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کے مختلف ذرائع کو بہتر انداز میں مربوط کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کےتوانائی شعبے میں تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ڈائریکٹر عاصم نذیر راجہ نے کہا کہ یہ شعبہ ایک تیز رفتار اور ناگزیر تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے جس میں ڈیجیٹلائزیشن مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) کے نفاذ، موبائل ایپلی کیشنز کے انضمام اور دیگر اصلاحات کے ذریعے شفافیت، آپریشنل کارکردگی اور صارفین کے تجربے میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ یہ جدید اقدامات نہ صرف صارفین کو بااختیار بنا رہے ہیں بلکہ بجلی کے نظام کی مجموعی مضبوطی اور ردعمل کی صلاحیت کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے توانائی کا شعبہ ایک زیادہ مربوط اور ڈیٹا پر مبنی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ہی سائبر سکیورٹی کو ترجیح دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور آئیسکو میں بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے سائبر سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے پر مسلسل سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ توانائی کے نظام کو محفوظ اور مستحکم رکھا جا سکے۔ توانائی کے شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی صرف تکنیکی نہیں بلکہ انسانی چیلنج بھی ہے۔کیسپرسکی کے مطابق 45 فیصد سے زائد اداروں نے صنعتی سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی کمی کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور آپریشنز کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں زیادہ تر اداروں میں کنٹرول سسٹمز کی سکیورٹی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے جبکہ آپریشنل قیادت کا کردار محدود ہے جس سے حکمت عملی میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔اس صورتحال سے محفوظ طریقے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے کے رہنما سائبر سکیورٹی کے لیے نئی حکمت عملی اپنائیں جس میں او ٹی نظام کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی کنٹرول سسٹمز کے لیے عام آئی ٹی سکیورٹی کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے صنعتی معیار کے تحفظ، حقیقی وقت میں نگرانی اور جدید ڈیٹیکشن سسٹمز کی ضرورت ہے جیسا کہ کیسپرسکی انڈسٹریل سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ آئی ٹی، او ٹی اور صنعتی انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی آئی او ٹی) کے بڑھتے ہوئے امتزاج کے پیش نظر ایک متحدہ نگرانی اور کنٹرول نظام ناگزیر ہو چکا ہےجبکہ توانائی کے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے ایسے شراکت داروں کی ضرورت ہے جو اس شعبے کی مخصوص ٹیکنالوجی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو سمجھتے ہوں۔\








