عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت، مہنگی توانائی اور بڑھتے قرضوں کے چیلنجز کا سامنا ہے، آئی ایم ایف
عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت، مہنگی توانائی اور بڑھتے قرضوں کے چیلنجز کا سامنا ہے، آئی ایم ایف

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ، توانائی کی بلند قیمتوں اور ریکارڈ عوامی قرضوں کے تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔ سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال طویل مدت میں عالمی اقتصادی ترقی کی سالانہ شرح میں نصف فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد سے تمام ممالک کو مستفید کرنے کے لیے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل رہنے، ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور توانائی و خوراک کی مہنگائی سے عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ عالمی سرکاری قرضہ جلد مجموعی عالمی پیداوار (جی ڈی پی) کے 100 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ بلند شرح سود اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بڑھتے اخراجات حکومتوں کے مالی وسائل پر دبائوڈال رہے ہیں۔
اس صورتحال میں مالیاتی خسارے کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے اور قابل اعتماد درمیانی مدت کی مالیاتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں غیر ضروری ضابطوں کا خاتمہ، ٹیکس نظام میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق صرف اقتصادی ترقی سے قرضوں کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، اس کے لیے موثر مالیاتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے اور پالیسی سازوں کو ضروری اقدامات میں مزید تاخیر کیے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی اور عالمی خوشحالی کے لیے دستیاب وسائل موثر انداز میں استعمال کرنے چاہئیں۔








