غربت میں کمی کیلئے مؤثر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک منصفانہ رسائی کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے، صدرآصف علی زرداری کا غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام
غربت میں کمی کیلئے مؤثر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک منصفانہ رسائی کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے، صدرآصف علی زرداری کا غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے غربت میں کمی کے لئے مؤثر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک منصفانہ رسائی کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی مشکلات سے دوچار خاندانوں کا تحفظ اور ہر شہری کو بنیادی ضروریات اور بہتر زندگی کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے،غربت کے خاتمے کے لئے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور تعلیم، صحت اور مناسب رہائش تک رسائی بہتر بنانے کے لئے مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں، ہر خاندان کو اپنے حالات بہتر بنانے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لئے حقیقی مواقع میسر ہونے چاہئیں۔
ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے غربت کے خاتمے کے عالمی دن جو ہر سال 17 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) پاکستان میں غربت کے خاتمے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے تحت کمزور طبقات، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اس پروگرام نے معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے گھرانوں کو سماجی تحفظ فراہم کیا ہے اور انہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مدد دی ہے، غربت میں طویل المدتی کمی کے لئے ایسے اقدامات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خاندانوں کو اپنے ذرائع معاش بہتر بنانے کے قابل بنانا بھی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس سال کا موضوع ’’سب کے لئے محفوظ گھر‘‘ پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے باعث بے شمار خاندان اپنے گھروں، روزگار اور اس اثاثے سے محروم ہو گئے جو انہوں نے نسلوں کی محنت سے جمع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان خاندانوں کی مشکلات کو فراموش نہیں کر سکتے بالخصوص بزرگوں، خواتین اور بچوں کی تکالیف کو، جو اچانک چھت سے محروم ہو گئے تھے۔صدر مملکت نے حکومت سندھ کی کوششوں پر خصوصی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام شروع کیا جس کے تحت سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ 21 لاکھ مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں، اس پروگرام کے تحت لاکھوں مکانات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ صوبے بھر میں تعمیرِنو کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھرپارکر جیسے علاقوں میں ترقی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہئے کہ اس سے مقامی آبادی کی زندگیوں میں کیا بہتری آتی ہے، پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت کی سہولیات اور روزگار کے قابل اعتماد مواقع تک رسائی معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے لئے عملی طور پر نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے، ترقی کے ثمرات بہتر حالات زندگی کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں اور لوگوں کو اپنے اور اپنے خاندانوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے متعارف کرائی گئی زرعی اصلاحات اور مزدوروں سے متعلق اقدامات معاشی عدم مساوات میں کمی اور محنت کشوں اور مزارعین کی حیثیت بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں، یہ تاریخ ہمیں اس اہمیت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچنا یقینی بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے لئے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا، ضروری طبی سہولیات حاصل کرنا اور مناسب رہائش کا بندوبست کرنا فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ غربت میں کمی کے لئے ہماری کوششوں میں روزمرہ زندگی کے ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت مند افراد کو عملی معاونت فراہم کی جانی چاہئے۔
صدر مملکت نے اس دن کے موقع پر غربت میں کمی کے لئے مؤثر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک منصفانہ رسائی کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاندان کو اپنے حالات بہتر بنانے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لئے حقیقی مواقع میسر ہونے چاہئیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ان کا خواب ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، کوئی ماں اپنے خاندان کے مستقبل کے حوالے سے خوف زدہ نہ ہو، کوئی بزرگ مشکلات میں تنہا نہ چھوڑا جائے اور کسی نوجوان کو بہتر زندگی کی تعمیر کے موقع سے محروم نہ کیا جائے۔







