فائیوجی سروس کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی بارے کوششیں جاری ، سروس کی مکمل فراہمی میں دو سال لگیں گے،پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری

فائیوجی سروس کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی بارے کوششیں جاری ، سروس کی مکمل فراہمی میں دو سال لگیں گے،پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیا کہ پاکستان میں فائیوجی سروسز کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں پی ٹی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان دو اجلاس ہو چکے ہیں،ملک بھر میں 5G سروس کی مکمل فراہمی میں مزید دو سال لگیں گے۔جمعے کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف اراکین کے سوالوں کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی مواصلات سبین غوری نے ایوان کوبتایا کہ فائیوجی ٹیکنالوجی سے متعلق موبائل فونز کی کم از کم قیمت تقریبا 36 ہزار روپے ہے جو عام آدمی کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ان فونز کی قیمت کم کرکے 15 سے 20 ہزار روپے کی سطح پر لائی جائے تاکہ طلبہ سمیت زیادہ سے زیادہ افراد فائیوجی خدمات سے استفادہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موبائل فونز اسمبل بھی کیے جا رہے ہیں تاہم ٹیکسوں کی بلند شرح کے باعث ان کی قیمتیں کم کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی 19 مارچ 2026 کو ہوئی تھی جس میں تین سیلولر کمپنیوں نے حصہ لیا، اس وقت ملک کے تقریبا 25 شہروں میں فائیوجی خدمات فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ اداروں کی کوششوں سے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی ممکن بنائی جا سکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں فائیو جی (5G)سروس کی مکمل فراہمی کے لیے مزید تقریبا دو سال درکار ہوں گے، تاہم بڑے شہروں میں اس سروس کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔

سبین غوری نے کہا کہ حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک سال کے اندر ہزاروں نئی سائٹس مکمل کرنے کا ہدف دیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کے لیے آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کو بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ فائیوجی سروس کی فراہمی، انٹرنیٹ کی رفتار اور ملک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی صورت حال سے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5G سروس کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری اور تنصیب مسلسل عمل ہے اور اسے راتوں رات مکمل نہیں کیا جا سکتا ،اس کے لیے وسائل، نیٹ ورک کی توسیع اور مختلف علاقوں میں سروس کی فراہمی کے انتظامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت تقریبا 2,051 ٹیلی کام سائٹس پرفائیوجی ٹاورز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ 25 شہروں کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیلامی میں حصہ لینے والی تینوں سیلولر کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سال کے اندر ہزاروں سائٹس کی تنصیب مکمل کریں جن میں بڑے شہر، وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومت شامل ہوں گے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ پی ٹی اےمختلف شہروں میں 5G اور 4G سروسز کی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو نیٹ ورک کی کارکردگی اور سروسز کی دستیابی کا جائزہ لے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فائیوجی نیٹ ورک کے لیے بہتر بنائے جانے والے انفراسٹرکچر سے فورجی سروسز کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع سے موجودہ ٹیلی کام نظام کی استعداد بہتر ہوتی ہے، اس سلسلے میں نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن نے نئی آپٹیکل فائبر لائنیں بچھانے کے ساتھ موجودہ نیٹ ورک کی رفتار اور استعداد میں بھی بہتری لائی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ فائیوجی کے لیے تقریبا 2,851 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبلز کے نیٹ ورک کو بہتر بنایا گیا ہے جہاں آپٹیکل فائبر اور دیگر بنیادی سہولیات بہتر ہوتی ہیں وہاں 4G سمیت دوسری ٹیلی کام سروسز کی کارکردگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ ضمنی سوال پرانہوں نے ایوان کوبتایا کہ انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں زیرِ سمندر بین الاقوامی کیبلز میں خرابی اور بعض علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی دنیا سے منسلک کرنے والی سمندری کیبلز میں مختلف مواقع پر خرابی پیدا ہوئی جس سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ حکومت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ صوبوں سے رائٹ آف وے پالیسی کے تحت اجازت نامے بھی حاصل کیے گئے ہیں، اس پالیسی کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے نیٹ ورک کی توسیع میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں تقریبا 5,175 ٹیلی کام سائٹس کے مقابلے میں فائیوجی کے لیے تقریبا 485 ٹاورز نصب کیے گئے ہیں جو مجموعی تعداد کا لگ بھگ 10 فیصد بنتے ہیں۔ ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ فائیوجی انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں میں لازما بڑا فرق نہیں ہوتا، تاہم زیادہ رفتار کے باعث صارفین کا ڈیٹا استعمال بڑھ سکتا ہے جس کا انحصار صارف کی ضروریات اور استعمال پر ہوتا ہے۔

مزید خبریں