فاتح لکشمی پور ، میجر طفیل محمد شہید ،نشانِ حیدر ، وطن پر قربان ہونے کی ایک لازوال داستان ہے۔
فاتح لکشمی پور ، میجر طفیل محمد شہید ،نشانِ حیدر ، وطن پر قربان ہونے کی لازوال داستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):فاتح لکشمی پور ، میجر طفیل محمد شہید ،نشانِ حیدر ، وطن پر قربان ہونے کی ایک لازوال داستان ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں میجر طفیل محمد شہید، نشانِ حیدر کا نام عزت، بہادری اور قربانی کی علامت ہے ۔میجر طفیل محمد شہید نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جرات و استقامت کی نئی تاریخ رقم کی۔انہوں نے پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں اورقائدانہ کردار کی بدولت نمایاں مقام حاصل کیا۔بھارتی سرحد سے متصل لکشمی پور سیکٹر میں میجر طفیل محمدنے دشمن کی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا ۔بھارتی فوج نے سمگلرز کو تحفظ دینے کے لئے اگست 1958 میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لکشمی پور سیکٹر پر قبضہ کر لیا ، لکشمی پور کا علاقہ مشرقی پاکستان میں بھارتی اشیاء کی سمگلنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا ،اس غیر قانونی سمگلنگ کو روکنے کے لئے ایسٹ پاکستان رائفلز(EPR) کو تعینات کیا گیا ۔ میجر طفیل محمد کو دشمن کے زیر قبضہ لکشمی پور کے علاقہ کو واگزار کرانے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ۔
7 اگست کی رات میجر طفیل محمد نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے مضبوط مورچوں پر حملہ کر دیا ۔اس حملے میں میجرطفیل محمد شہید دشمن کی مشین گن کے فائر کی زد میں آکرشدید زخمی ہو گئے لیکن دستی بموں سے حملہ جاری رکھا ۔میجر طفیل محمد نے شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی کمان نہ چھوڑی اور دشمن کو پسپا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔اس دوران میجر طفیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو گئے۔میجر طفیل محمد شہید کی قربانی اور جرات مندی نے دشمن کو شکست دی اور لکشمی پور سیکٹر کا قبضہ چھڑانے میں کامیابی حاصل کی ۔ میجر طفیل محمد شہید کی قربانی پاک فوج کی پیشہ ورانہ روایات، جذبہ ایثار اور وطن سے غیر متزلزل وفاداری کی روشن مثال ہے۔








