فرانس کی یورپی یونین و نیٹو سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم قومی خودمختاری و معاشرتی اتحاد کا واحد راستہ ہے ، سابق کرنل جیک ہوگارڈ

پیرس۔22اکتوبر (اے پی پی):فرانسیسی فارن لیجن کے سابق افسر جیک ہوگارڈ نے کہا ہے کہ ملک کی یورپی یونین اور نیٹو سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد قومی خودمختاری کی بحالی اور معاشرے میں اتحاد و یکجہتی مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔روسی خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں جیک ہوگارڈ نے کہا کہ فرانس میں آزادانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں اور ان کے ساتھ یورپی یونین اور …

پیرس۔22اکتوبر (اے پی پی):فرانسیسی فارن لیجن کے سابق افسر جیک ہوگارڈ نے کہا ہے کہ ملک کی یورپی یونین اور نیٹو سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد قومی خودمختاری کی بحالی اور معاشرے میں اتحاد و یکجہتی مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔روسی خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں جیک ہوگارڈ نے کہا کہ فرانس میں آزادانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں اور ان کے ساتھ یورپی یونین اور نیٹو سے علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے فرانس اپنی خودمختاری اور آزادی دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ریفرنڈم فرانسیسی عوام کی بھاری اکثریت کو ایک مشترکہ مقصد پر متحد کرنے اور اس اقدام کا آغاز کرنے والی نئی حکومت کو عوامی تائید اور قانونی جواز فراہم کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس یورپی برادریوں( جو بعد ازاں یورپی یونین بنیں)کے بانی ارکان میں شامل ہے اور 1949 میں قیام کے وقت سے نیٹو کا رکن بھی ہے۔ 1966 میں صدر چارلس ڈیگال نے فرانس کو نیٹو کے مربوط فوجی ڈھانچے سے الگ کر دیا تھا، تاہم 2009 میں صدر نکولا سرکوزی کے دور میں فرانس دوبارہ نیٹو کے مربوط فوجی کمانڈ نظام میں مکمل طور پر شامل ہو گیا۔