فصلوں کی باقیات کو جلانے کی بجائے جدید زرعی مشینری کے ذریعے زمین میں شامل کیا جائے،ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) پنجاب

ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) پنجاب چوہدری شہباز اختر نےفیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سموگ کے تدارک اور گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے منعقدہ فارمر ڈے کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد چوہدری خالد محمود اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد حافظ عدیل احمد سمیت محکمہ زراعت کے …

فیصل آباد۔ 27 ستمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) پنجاب چوہدری شہباز اختر نےفیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سموگ کے تدارک اور گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے منعقدہ فارمر ڈے کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد چوہدری خالد محمود اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد حافظ عدیل احمد سمیت محکمہ زراعت کے افسران، فیلڈ عملہ اور بڑی تعداد میں مقامی کاشتکار موجود تھے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) پنجاب نے کہا کہ سموگ کے خاتمے اور صاف ماحول کے قیام کے لیے دھان کی پرالی اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی میں اضافے اور سموگ کا باعث بنتا ہے جبکہ پرالی جلانے سے زمین کی بالائی سطح میں موجود مفید نامیاتی اجزا اور زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کی بجائے جدید زرعی مشینری کے ذریعے زمین میں شامل کیا جائے یا مناسب طریقے سے تلف کیا جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی بھی برقرار رکھی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کو سپر سیڈر، شریڈر اور دیگر جدید زرعی مشینری کے استعمال کی طرف راغب کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف حکومتی مراعات اور سہولیات سے فائدہ اٹھا کر کسان جدید اور ماحول دوست طریقہ کاشت اختیار کرسکتے ہیں۔ڈی جی زراعت نے کہا کہ سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ کاشتکار برادری کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا فیلڈ عملہ کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے مضر اثرات، متبادل طریقہ کار اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مسلسل آگاہی فراہم کرے تاکہ سموگ کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کو موثر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی کاشت کے دوران معیاری اور تصدیق شدہ بیج کا انتخاب کریں، زمین کی مناسب تیاری پر خصوصی توجہ دیں اور فصل کی ضرورت کے مطابق متوازن کھادوں کا استعمال یقینی بنائیں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ گندم کی فصل کے حوالے سے کسانوں کو فیلڈ لیول پر عملی رہنمائی فراہم کریں اور انہیں جدید پیداواری ٹیکنالوجی، بہتر بیج، متوازن کھادوں، آبپاشی کے موثر طریقوں اور دیگر زرعی امور سے متعلق آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی سفارشات پر عمل درآمد کرکے نہ صرف فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ پیداواری لاگت کو بھی بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد چوہدری خالد محمود اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) فیصل آباد حافظ عدیل احمد نے ڈی جی زراعت کو فیصل آباد ڈویژن میں سموگ کی روک تھام کے حوالے سے جاری مہم، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کی حوصلہ شکنی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور گندم کی آئندہ فصل کے حوالے سے محکمہ زراعت کی سرگرمیوں اور اہداف پر بریفنگ دی۔ تقریب میں تاندلیانوالہ اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کاشتکاروں نے محکمہ زراعت کی جانب سے فیلڈ میں آگاہی اور رہنمائی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ سموگ کے تدارک کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز کریں گے اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ جدید زرعی سہولیات اور مشینری سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی سفارشات پر عمل درآمد کریں گے۔