فلم ساز علی سجاد شاہ المعروف ابو علیحہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے آنے والی پاکستانی فلم”مینگو جٹ” کی ایڈیٹنگ سے متعلق اختلافات کے باعث اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی
فلم "مینگو جٹ” کی ایڈیٹنگ پر اختلافات، ہدایتکار ابو علیحہ کا منصوبے سے علیحدگی کا انکشاف
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):فلم ساز علی سجاد شاہ المعروف ابو علیحہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے آنے والی پاکستانی فلم”مینگو جٹ” کی ایڈیٹنگ سے متعلق اختلافات کے باعث اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابو علیحہ نے فلم کے حال ہی میں جاری ہونے والے ٹریلر کو ’’کرنج‘‘ اور ’’غیر معیاری‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلم کی حتمی شکل ان کے تصور سے مختلف ہے۔ابو علیحہ کا کہنا ہے کہ فلم "مینگو جٹ”ان کا تخلیق کردہ منصوبہ تھا، جس پر انہوں نے ساڑھے تین برس قبل کام شروع کیا، اسکرپٹ تحریر کیا اور اداکاروں کا انتخاب بھی خود کیا۔ ان کے مطابق فلم کی شوٹنگ ڈھائی برس قبل مکمل ہوئی تھی اور ابتدائی ایڈیٹنگ بھی ان کی نگرانی میں کی گئی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں فلم کو مزید ایڈیٹنگ کے لیے بھارت بھیجا گیا، جہاں سے واپس آنے والی حتمی ایڈیٹ سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ان کے بقول اس عمل کے دوران بعض اہم کرداروں کے متعدد مناظر حذف کر دیے گئے، جس پر انہوں نے اعتراض کیا۔فلم ساز کے مطابق کچھ دیگر معاملات، اضافی مناظر کی شوٹنگ اور تخلیقی اختلافات کے باعث انہوں نے منصوبے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا، جبکہ فلم کی تیاری ان کے بغیر جاری رہی۔دوسری جانب اداکارہ اور شریک پروڈیوسر حریم فاروق نے اس معاملے پر تفصیلی ردعمل نہیں دیا، تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فلم پر کام کرنے والے تمام افراد کو مناسب کریڈٹ دیا جائے گا اور مزید حقائق جلد سامنے آئیں گے۔واضح رہے کہ فلم ’مینگو جٹ‘ کے ٹریلر کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔









