اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ہدایات کے مطابق فنانشل سیکٹر کی 88 فیصد لائسنس یافتہ کمپنیوں نے اپنے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے فنانشل پورٹل فار ان لسٹڈ کمپنیز پر جاری کیے ہیں۔ لائسنس یافتہ ان کمپنیوں کے فنانشل سٹیٹمنٹ اب عوام کی رسائی میں ہیں اور اس پورٹل پر جا کر دیکھے جا سکتے ہیں۔بدھ …
فنانشل سیکٹر کی 88 فیصد لائسنس یافتہ کمپنیوں نے سالانہ مالیاتی گوشوارے پبلک فورم پر جاری کر دیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ہدایات کے مطابق فنانشل سیکٹر کی 88 فیصد لائسنس یافتہ کمپنیوں نے اپنے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے فنانشل پورٹل فار ان لسٹڈ کمپنیز پر جاری کیے ہیں۔
لائسنس یافتہ ان کمپنیوں کے فنانشل سٹیٹمنٹ اب عوام کی رسائی میں ہیں اور اس پورٹل پر جا کر دیکھے جا سکتے ہیں۔بدھ کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایس ای سی پی نے گزشتہ سال جنوری میں نے فنانشل سیکٹر کی تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں جو کہ سٹاک ایکسچینج میں لسٹ نہیں ہیں، ان کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے مالیاتی گوشواروں کے پورٹل پر اپ لوڈ کریں تاکہ ان کمپنیوں کی فنانشل رپورٹیں بھی پبلک کے لیے دستیاب ہوں۔
فنانشل پورٹل فار ان لسٹڈ کمپنیز کے پورٹل پر گوشوارے اپ لوڈ کرنے کے لیے کمپنیوں کو سٹاک ایکسچینج کے ساتھ معاہدے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔لائسنس کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے کی پبلک پورٹل پر دستیابی سے شفافیت برھے گی اور سٹیک ہولڈز کی کمپنیوں کی معلومات تک رسائی بہتر ہو گی جس سے ان اداروں میں گورننس کا نظام بھی بہتر ہو گا۔ فنانشل سٹیٹمنٹ کی عوامی دستیابی سے سرمایہ کاراور دیگر سٹیک ہولڈر کو کمپنیوں کی کارکردگی اور مالی حیثیت کا بہتر اندازہ لگانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
ایس ای سی پی کی لائسنس کمپنیوں میں بروکرز، انشورنس کمپنیاں، نان بینکنگ فنانس کمپنیاں ، مضاربہ کمپنیاں اور دیگر لائسنس یافتہ ادارے شامل ہیں۔ ایس ای سی پی کی ہدایت کی تعمیل میں 88 فیصد لائسنس کمپنیوں نے 2025ء کی سالانہ فنانشل سٹیٹمنٹ فنانشل پورٹل فار ان لسٹڈ کمپنیز پر پر اپ لوڈ کر دی ہیں۔
دیگر اس ہدایت کی تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ ایس ای سی پی پاکستان کے فنانشل سروسز کے شعبے میں شفافیت، بہتر گورننس اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے جامع ریگولیٹری فرایم ورک پر مسلسل عمل پیرا ہے۔








