لاہور۔1جون (اے پی پی):آسٹریلوی اسپنر میتھیو کوہنمین نے پاکستان کے خلاف جاری سیریز کے آئندہ میچوں کے لیے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لاہور کی وکٹ بھی راولپنڈی کی طرح اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی، جس سے مقابلے مزید دلچسپ بن سکتے ہیں۔ پیر کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میتھیو کوہنمین نے کہا کہ راولپنڈی کی پچ نسبتا سست رفتار تھی تاہم دونوں ٹیموں …
لاہور کی وکٹ بھی راولپنڈی کی طرح اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی، میتھیو کوہنمین

مزید خبریں
لاہور۔1جون (اے پی پی):آسٹریلوی اسپنر میتھیو کوہنمین نے پاکستان کے خلاف جاری سیریز کے آئندہ میچوں کے لیے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لاہور کی وکٹ بھی راولپنڈی کی طرح اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی، جس سے مقابلے مزید دلچسپ بن سکتے ہیں۔ پیر کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میتھیو کوہنمین نے کہا کہ راولپنڈی کی پچ نسبتا سست رفتار تھی تاہم دونوں ٹیموں نے اپنی حکمت عملی کے مطابق کھیل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم لاہور میں بہتر کرکٹ کھیلنے اور شائقین کو اچھے مقابلے فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے پہلے ون ڈے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلیا کو بڑا اسکور کرنے سے روکنے میں کامیاب رہے۔انہوں نے کہاکہ اگر آسٹریلوی بیٹرز مزید 40 رنز اسکور کر لیتے تو میچ کا مقابلہ کہیں زیادہ سخت اور دلچسپ ہو سکتا تھا۔سیریز کے اہداف کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسٹریلوی اسپنر نے کہا کہ اس وقت پوری ٹیم کی توجہ صرف پاکستان کے خلاف سیریز جیتنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ یا دیگر مستقبل کے ایونٹس کے بارے میں ابھی سوچنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ موجودہ ہدف سیریز میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔میتھیو کوہنمین نے انکشاف کیا کہ پہلے میچ میں انجری کا شکار ہونے والے اسپنر ایڈم زمپا کی اگلے میچ میں پلیئنگ الیون میں واپسی کا امکان موجود ہے، جو ٹیم کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔انہوں نے آسٹریلوی کپتان مچل مارش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی معیار کے آل راونڈر اور ٹیم کے انتہائی اہم رکن ہیں۔ ان کے مطابق مچل مارش نے طویل عرصے سے آسٹریلیا کے لیے مسلسل عمدہ پرفارمنس دی ہے اور ٹیم کو ان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔فرنچائز کرکٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں میتھیو کوہنمین نے کہا کہ ان کے خیال میں آسٹریلوی کھلاڑیوں کی اولین ترجیح اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے لیے کھیلنا ہر کھلاڑی کے لیے اعزاز کی بات ہے اور زیادہ تر کھلاڑی قومی ٹیم کی کامیابی کو فوقیت دیتے ہیں۔پاکستان کے موسم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ دن کے اوقات میں گرمی محسوس ہوتی ہے، تاہم میچ کے وقت درجہ حرارت نسبتا معتدل ہو جاتا ہے، جس سے کھلاڑیوں کو کھیلنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آتی۔







