ماحول دوست سیاحت سے نوجوانوں کو روزگار ملنے پر سوات کی خوبصورتی کاروبار میں بدل گئی
ماحول دوست سیاحت سے نوجوانوں کو روزگار ملنے پر سوات کی خوبصورتی کاروبار میں بدل گئی

مزید خبریں
سوات۔ 15 ستمبر (اے پی پی):سوات کی حسین وادیوں پر چھائے ہوئے مون سون کے سیاہ بادل جیسے ہی چھٹے اور دھوپ نکلی، قدرت نے ایک ایسا سحر انگیز منظر پیش کیا جس نے ہزاروں سیاحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے مقامی خاندانوں کےلیے عزتِ نفس کے ساتھ روزگار کمانے کی نئی امیدیں روشن ہوئیں۔ بارش کے خوشگوار سلسلے کے بعد موسمی پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کے درمیان سنہری دھوپ کی چمک نے کلام، مدین، بحرین، مالم جبہ اور اوشو کی وادیوں کو دھند سے ڈھکے پہاڑوں، چمکتے ہوئے ندی نالوں اور سرسبز و شاداب میدانوں پر مشتمل ایک زندہ کینوس میں بدل دیا ہے جس سے پاکستان کے میدانی علاقوں کی گرمی سے نجات کے خواہش مند سیاحوں کے لیے بہترین حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
کلام اور مہوڈنڈ جھیل پر دھوپ اور بادلوں کے کھیل کے دوران آسمان پر شاندار قوسِ قزح پھیل گئی جس نے دلکش مناظر تخلیق کیے جو زائرین کو ہوٹلوں، ریستورانوں اور سڑک کنارے واقع کیفے سے باہر لے آئے۔بچے بونداباندی میں ہنستے اور ناچتے رہے جبکہ خاندانوں نے پہاڑوں کے ڈرامائی پس منظر میں تصاویر کے لیے پوز دیئے۔مہوڈنڈ جھیل پر سیاحوں نے کشتی رانی کا لطف اٹھایا جبکہ بادل گرد و پیش کی چوٹیوں کے اوپر تیر رہے تھے اور اوشو کی پہاڑیوں سے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ایڈونچر کے شوقین اور فوٹوگرافر ان مقامات پر جمع ہو گئے جو بارش سے بھیگے ہوئے جنگلات، کرسٹل کی طرح شفاف دریاؤں اور بلند و بالا پہاڑوں کو آغوش میں لیتے بادلوں کی عارضی خوبصورتی کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرنے کے لیے بے تاب تھے۔
موسمِ گرما کی شدید گرمی سے آنے والے سیاحوں کے لیے اس موسم نے عارضی راحت سے بڑھ کر ایک ناقابلِ فراموش تجربہ فراہم کیا۔لیکن بالائی سوات کے اس شاندار منظر نامے کے پیچھے ایک اور کہانی بھی ہے جو کہ نوجوانوں اور خاندانوں کی سیاحت کے ذریعے نئے معاشی مواقع تلاش کرنے سے متعلق ہے۔بہت سے مقامی گھرانوں کےلیے خیبر پختونخوا، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے محض سیاح نہیں ہیں۔ یہ ہوٹل کے ملازم، ٹرانسپورٹر، دکاندار، فوڈ وینڈر، گھوڑے کے سوار، فوٹوگرافر یا کسی چھوٹے گیسٹ ہاؤس کے مالک کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ اپنے معمولی خاندانی گیسٹ ہاؤس کے باہر کھڑے مقامی ٹورازم انٹرپرینیور عطاء اللہ یوسفزئی نے گھر کے بنے ہوئے کھانے اور ٹھنڈے پینے کے پانی کے ساتھ سیاحوں کا استقبال کیا، ان کے چہرے سے ممنونیت اور پرامیدی جھلک رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں سے پہلے سیاحوں کی آمد ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔
ہر سیاح ہوٹل کے مالکان اور ٹرانسپورٹرز سے لے کر دکانداروں اور فوڈ وینڈرز تک درجنوں خاندانوں کی مدد کرتا ہے۔ سوات کے بہت سے نوجوان ڈائریکٹرز/انٹرپرینیورز کی طرح عطاء اللہ نے بھی سیاحت کے مصروف سیزن کے دوران اپنے آبائی گھر کے ایک حصے کو ایک چھوٹے گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کر دیا ہے۔ دستیاب جگہ کا بہتر استعمال کرنے کی کوشش کے طور پر جو کام شروع ہوا تھا، وہ خاندانی اضافی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے جبکہ یہ سیاحوں کو مناسب قیمت پر رہائش اور مقامی مہمان نوازی کی گرمجوشی بھی فراہم کر رہا ہے۔ کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فوٹوگرافر رحمان گل اور گھوڑے کے سوار خورشید علی نے بھی امید اور جدوجہد کی ایسی ہی کہانیاں شیئر کیں۔شادی کے بعد رحمان گل بے روزگاری اور اپنے گھر بار کی کفالت کی ذمہ داری سے نبرد آزما تھے۔ ان کی زندگی میں تبدیلی کسی رسمی ملازمت سے نہیں بلکہ اپنے دادا کے مشورے سے آئی۔ رحمان نے کہا کہ ایک بے روزگار شادی شدہ مرد کی مشکلات کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ نوکری کا بلاوجہ انتظار کرنے کے بجائے میرے دادا نے مجھے اپنے گھر کے دو کمرے سیاحوں کے لیے مخصوص کرنے کی ترغیب دی۔ آج اللہ کے فضل سے میں اپنے گھر بار کی کفالت کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی سے بھی کافی آمدنی حاصل کر لیتا ہوں۔ رحمان ایک پورے دن کے قیام کےلیے 5000 روپے چارج کرتے ہیں اور اپنے مہمانوں کو کھانا اور پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے سیاحت صرف پیسے کمانے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تجربہ تخلیق کرنا ہے جو سیاحوں کو دوبارہ آنے پر راغب کرے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمارے مہمان مطمئن ہو کر جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ واپس آنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ سابق سفیر منظور الحق نے’’ اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات کی قدرتی خوبصورتی کے علاوہ میں اس کی منفرد ٹراؤٹ مچھلی اور برف باری سے لطف اندوز ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سوات کی سات منفرد خصوصیات جیسے کہ ٹراؤٹ مچھلی، سکینگ، پیراگلائیڈنگ، واٹر رافٹنگ، برف باری، بوٹنگ اور سوات موٹروے اسے پاکستان کا ایک مثالی سیاحتی مقام بناتی ہیں۔ کلام، مدین اور قریبی دیہاتوں میں سوات میں اسی طرح کی کہانیاں جنم لے رہی ہیں کیونکہ بارشیں شمالی خیبر پختونخوا میں موسمِ سرما کے آغاز کا اشارہ دیتی ہیں۔ وہ مکانات جو پہلے سال کے زیادہ تر حصے میں خاموش رہتے تھے، موسمی گیسٹ ہاؤسز میں تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ نوجوان ڈرائیوروں، گائیڈز، فوٹوگرافرز، گھوڑے کے سواروں اور مہمان نوازی کے کارکنوں کے طور پر کام تلاش کر رہے ہیں جبکہ مقامی دکانیں، ریستوران اور ٹرانسپورٹ کی خدمات سیاحوں کے بڑھتے ہوئے آمد سے مستفید ہو رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا ٹورازم اینڈ کلچر اتھارٹی کے ترجمان شاد خان نے’’ اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی رہائشیوں کےلیے سیاحوں کی رہائش کے لیے کمرے مخصوص یا تعمیر کرنے کے لیے قرض کی سہولیات متعارف کرائی ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس نے کمیونٹیز کو سیاحتی معیشت میں براہِ راست حصہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ مقامی نوجوانوں کے لیے ایسے مواقع نایاب رسمی روزگار کے انتظار کا ایک متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ چارسدہ سے کلام کا سفر کرنے والے شاہد خان نے کہا کہ وہ شدید گرمی سے بچنے اور پوسٹ مون سون سیزن کے دوران وادی کے پرامن ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں دھوپ اور بادلوں کے کھیل کے ساتھ قوسِ قزح سے لطف اندوز ہونے آیا ہوں۔ مقامی لوگوں کی مہمان نوازی شاندار ہے۔ خاندانی گیسٹ ہاؤسز ہوٹلوں سے سستے ہیں اور سیاح بھاری رقم خرچ کیے بغیر ٹراؤٹ مچھلی، ریور رافٹنگ اور پیراگلائیڈنگ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔سیاحت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ خوشگوار موسم، جاری گرمیوں کی چھٹیوں کے سیزن کے ساتھ مل کر آنے والے ہفتوں میں سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برف سے ڈھکی چوٹیوں اور سرسبز و شاداب وادیوں سے لے کر آثار قدیمہ کے خزانوں، صحراؤں اور مذہبی ورثے کے مقامات تک سیاحت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
پھر بھی عالمی سیاحتی معیشت میں ملک کا حصہ معمولی ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ بہت سے مقامات کی بین الاقوامی سطح پر اب بھی ناکافی تشہیر کی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا ٹورازم اینڈ کلچر اتھارٹی کے مینیجر محمد علی سید نے کہا کہ دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے پاکستان کے سیاحتی امکانات کو پیش کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ضروری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس شاندار وادیاں، سکینگ کے مقامات، دریا، ہائیکنگ ٹریلز اور ثقافتی ورثہ موجود ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ان مقامات کو مزید مؤثر طریقے سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سیاحوں کے لیے محفوظ اور خوش آئند ماحول کی فراہمی کو جاری رکھنا ہو گا۔معیشت دانوں اور سیاحت کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مضبوط ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بہتر انفراسٹرکچر اور سیاحتی خدمات میں مسلسل سرمایہ کاری سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر دیہی لوگوں میں جہاں سیاحت براہِ راست چھوٹے کاروباروں اور خاندانی آمدنی کو سہارا دیتی ہے۔
جیسے ہی سوات پر شام ڈھلی، مون سون کے بادل آہستہ آہستہ پہاڑوں سے چھٹ گئے، بارش سے دھلے ہوئے حسین میدان نمایاں ہو گئے۔ ڈوبتی ہوئی دھوپ نے وادی میں ایک اور قوسِ قزح بنا دی جس نے سیاحوں کی ایک اور لہر کو اپنے موبائل فون اور کیمروں تک پہنچنے پر مجبور کر دیا۔سیاحوں کے لیے یہ دیر سے آنے والے مون سون کے دوران ایک جادوئی گرمائی یاد تھی۔ عطاء اللہ اور رحمان گل جیسے خاندانوں کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ ان کے وطن کی خوبصورتی روزگار، عزتِ نفس اور امید کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ رخصت ہوتے ہوئے گرمیوں کے سورج کے نیچے چمکتی ہوئی بارش سے بھیگی وادیوں کے ساتھ سوات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کا سب سے پسندیدہ مقام کیوں ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہر بدلتا ہوا موسم نہ صرف دلکش مناظر لاتا ہے بلکہ ان پہاڑوں کو اپنا گھر کہنے والے لوگوں کےلیے روزگار کے نئے مواقع بھی لاتا ہے۔








