مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، ترجمان دفتر خارجہ

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مالدیپ کے صدرمحمد معیزو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد، کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان آئے گا۔مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جو ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دیں گے۔ مالدیپ کے صدر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے علیحدہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔

دونوں رہنما تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔دورے کے دوران پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد بھی ہوگا جس کا مقصد دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ اس موقع پر دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

مالدیپ کے کسی صدر کا 11 سال بعد پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان 1966 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ کے تناظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان اور مالدیپ مشترکہ مذہبی اقدار، باہمی احترام، دیرینہ خیرسگالی اور علاقائی و عالمی فورمز پر قریبی تعاون پر مبنی دوستانہ برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کی جانب سے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔

مزید خبریں