فیصل آباد۔ 29 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت اورا چھی پیداوار کیلئے راؤنی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار مذکورہ ہدایت پر سختی سے عمل کریں تاکہ کم پانی سے زیادہ رقبے پر راؤنی ہوسکے نیز جب بوائی کاوقت شروع ہو تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلایااورسہاگہ دیاجائے کیونکہ یہ …
محکمہ زراعت کاکاشتکاروں کو گندم کی کاشت اوراچھی پیداوار کیلئے کھیتوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کامشورہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 29 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت اورا چھی پیداوار کیلئے راؤنی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار مذکورہ ہدایت پر سختی سے عمل کریں تاکہ کم پانی سے زیادہ رقبے پر راؤنی ہوسکے نیز جب بوائی کاوقت شروع ہو تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلایااورسہاگہ دیاجائے کیونکہ یہ عمل دو سے تین مرتبہ دہرانے سے نہ صرف جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی بلکہ زمین کی نیچے والی نمی اوپر آجائے گی جو گندم کی شاندار فصل اور اچھے اگاؤ کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔
نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت توسیع کے ماہرین نے کہاکہ زمین کو ہموار کرنے کیلئے گہراہل چلایا جائے تاکہ فصل کو مناسب نمی میسر ہوسکے اور سہاگہ چلانے سے ڈھیلے وغیرہ بھی نہ بن سکیں۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے کھیت کو اچھی طرح تیار کریں اور وریال زمینوں میں دو یا تین دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں اور جہاں کہیں ضرورت ہو کراہ یا لیزر لیولر سے زمین کو ہموار کریں۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی کاشت کا موزوں وقت 20نومبرتک ہے کیونکہ اس کے بعد کاشتہ گندم میں ہر روز ایک فیصدیعنی 15تا 20کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں گندم کی پیداوار 29سے 30من فی ایکڑ ہے مگر جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپناکر اس میں واضح اضافہ کیا جاسکتا ہے۔








