لاہور۔28جنوری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کا 95 فیصد حصہ صوبہ پنجاب میں سرگودھا، منڈی بہاوالدین، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاول پور، رحیم یار خان، لیہ اور ڈیرہ غازی خان پر مشتمل ہے۔ ترشاوہ پھلوں میں سب سے زیادہ کاشت کینو کی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کینو کے پودے کو پھول سے لیکر پختہ یا مکمل پھل …
محکمہ زراعت کی جانب سے کینو کی برداشت اور سنبھال بارے سفارشات جاری

مزید خبریں
لاہور۔28جنوری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کا 95 فیصد حصہ صوبہ پنجاب میں سرگودھا، منڈی بہاوالدین، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاول پور، رحیم یار خان، لیہ اور ڈیرہ غازی خان پر مشتمل ہے۔ ترشاوہ پھلوں میں سب سے زیادہ کاشت کینو کی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کینو کے پودے کو پھول سے لیکر پختہ یا مکمل پھل تیار ہونے کیلئے تقریبا300 دن کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔صوبہ پنجاب میں کینو کی برداشت جنوری کے آخر سے ماہ مارچ تک کی جاتی ہے۔کینو کی باغبان اس وقت کریں جب اس کی جلد کا رنگ مکمل طور پر سبز سے پیلا ہو جائے اور اس میں مٹھاس10 سے12 فیصد ہونی چاہیے۔
باغبان برداشت کرتے وقت پھل کو ڈنڈی سے توڑتے ہیں یا پھر پھل کو ہاتھ سے کھینچ کر درانتی یا قینچی سے ڈنڈی اور پتوں سمیت توڑلیا جاتا ہے یا ٹہنیاں ہلاکر پھل کو زمین پر گرایا جا تا ہے،اس طرح سے ایک تو پھل زخمی ہو جا تا ہے اور دوسرا یہ کہ درخت سے پتوں کا بہت زیادہ نقصان ہو جاتا ہے۔پھل کو زیادہ نمی میں نہ توڑا جائے تاکہ پھل کا چھلکا پھٹ جانے کی وجہ سے یا زخمی ہونے کی وجہ سے اس پر مختلف بیماریاں حملہ آور نہ ہوں جو کہ پھل کے گلنے سڑنے کا باعث بن سکیں۔پھل کو خشک موسم میں قینچی کی مدد سے احتیاط کے ساتھ ڈنڈی کے بالکل قریب سے کا ٹا جانا چا ہیے تا کہ دوسرے پھل ڈنڈی کی وجہ سے زخمی نہ ہوں۔








