محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو روغنی اجناس کی بروقت کاشت کی ہدایت

محکمہ زراعت فیصل آباد نے کاشتکاروں کو روغنی اجناس خصوصاً توریا، رایا اور سرسوں کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینولا کی منظور شدہ اقسام کی کاشت کو ترجیح دی جائے تاکہ خوردنی تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جاسکے۔

فیصل آباد۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت فیصل آباد نے کاشتکاروں کو روغنی اجناس خصوصاً توریا، رایا اور سرسوں کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینولا کی منظور شدہ اقسام کی کاشت کو ترجیح دی جائے تاکہ خوردنی تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جاسکے۔ڈائریکٹر محکمہ زراعت چوہدر ی خالد محمود نے بتایا کہ پنجاب میں کینولا کی منظور شدہ اقسام میں پی اے آری سی کینولا، رچنا کینولا، خان پور کینولا،ٹی ایم کینولا،ساندل بار کینولا، بارانی کینولا، سپر کینولا، خان پور کینولا اور شامل ہیں۔

کاشتکار منظور شدہ اقسام کا معیاری بیج استعمال کریں اور بہتر پیداوار کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں کینولا کی کاشت 20 اکتوبر تک جبکہ جنوبی پنجاب میں 31 اکتوبر تک کی جاسکتی ہے۔ رایا، چکوال سرسوں، بارانی سرسوں اور دیگر اقسام کی کاشت کے لیے بھی مقررہ وقت کی پابندی ضروری ہے جبکہ سرسوں کی بعض اقسام کی کاشت 15 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک موزوں قرار دی گئی ہے۔

محکمہ زراعت نے مزید ہدایت کی کہ بارانی علاقوں میں روغنی اجناس کی کاشت آخری اکتوبر تک مکمل کی جائے جبکہ آبپاش علاقوں میں کاشت کے لیے ڈرل کا استعمال کیا جائے اور بارانی علاقوں میں روٹا ویٹر کے بعد سنگل گرین ڈرل سے کاشت کرنے کو ترجیح دی جائے۔محکمہ زراعت نے آبپاش علاقوں میں سفارش کردہ فاسفورس اور پوٹاش کی پوری مقدار جبکہ نائٹروجن کھاد کی ایک تہائی مقدار بوائی کے وقت استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ باقی نائٹروجن کھاد پہلی آبپاشی کے ساتھ جبکہ آدھی مقدار پہلی آبپاشی سے پہلے ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بارانی علاقوں میں کھاد کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق کاشتکار روغنی اجناس کی منظور شدہ اقسام اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) اسلام آباد، پنجاب سیڈ کارپوریشن، مختلف زرعی تحقیقی اداروں، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد (AARI)، ریجنل زرعی تحقیقی ادارہ (RARI) بہاولپور، بارانی زرعی تحقیقی ادارہ (BARI) چکوال اور مستند پرائیویٹ کمپنیوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔محکمہ زراعت فیصل آباد نے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ روغنی اجناس کی بروقت اور جدید زرعی اصولوں کے مطابق کاشت کرکے نہ صرف اپنی پیداوار اور آمدن میں اضافہ کریں بلکہ ملک میں خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔