اسلام آباد ۔ 5 فروری (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کوئی پاکستانی مسئلہ کشمیر پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیںسکتا،پاکستان کا بچہ بچہ، تمام سیاسی قیادت اور جملہ ادارے اس جدوجہد میں کشمیریوںکے ساتھ کھڑے ہیں،گزشتہ روز پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی،استصواب رائے کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت …
مسئلہ کشمیر پر سودے بازی کا کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا،ہمارا بچہ بچہ،سیاسی قیادت اور جملہ ادارے اس جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی ہے،وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 فروری (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کوئی پاکستانی مسئلہ کشمیر پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیںسکتا،پاکستان کا بچہ بچہ، تمام سیاسی قیادت اور جملہ ادارے اس جدوجہد میں کشمیریوںکے ساتھ کھڑے ہیں،گزشتہ روز پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی،استصواب رائے کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت کے5 اگست 2019 ء کے اقدامات اقوام متحدہ کی قرارداوں کی خلاف ورزی ہے،بھارت نے خود اپنے دستور کی پامالی کا بھی ارتکاب کیا،اس طرح کشمیریوں کی شناخت اورکشمیریات کے تصورکو ختم کرنے کی کوشش کی گئی،اقوام متحدہ کے ‘فیکٹ فائنڈنگ مشن’ کو جموں وکشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حقائق کو بذات خود جان سکے،بھارت چھپانا نہیں چاہتا توعالمی میڈیا کواپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بیان میں کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آج کے دن ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو ایک واضح پیغام دینا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ، تمام سیاسی قیادت اور جملہ ادارے اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی ہمیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے،انسانی حقوق کمیشن میں پاکستان کو کامیابی ملی اور اس کمیشن نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی۔انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں 2 بار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بحث ہوچکی،یورپی پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے بحث ہو چکی ہے اس کے علاوہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھی مسئلہ کشمیر زیر بحث لایا گیا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متفق ہے،کوئی پاکستانی مسئلہ کشمیر پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکتا،بھارت کشمیر میں حالات معمول کی طرف جانے کا جھوٹا تاثر دیتا ہے،حالات اگر نارمل ہیں تو چھ ماہ سے کرفیو کیوں لگا رکھا ہے،مودی سرکارکوڈرہے کرفیو ہٹا تو لوگ باہرنکل آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے کشمیری قیادت کو نظربند کررکھا ہے،آج پوری دنیا مقبوضہ کشمیر کے حالات سے باخبر ہے،حقائق سے نظریں چرائی جارہی ہیں جبکہ دنیا تجارتی مصلحتوں کے تحت خاموش ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لابنگ ہر حکومت اور ریاست کا حق ہے،مسئلہ کشمیر پر مصلحتوں کے پس پردہ صرف لابنگ نہیں بلکہ مفادات کارفرما ہیں،علاقائی مفادات کو دیکھا جارہا ہے،جب مفادات آڑے آتے ہیں تو لابنگ زیر ہوجاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارت کے5 اگست 2019 ء کے اقدامات اقوام متحدہ کی قرارداوں کی خلاف ورزی ہے،بھارت نے خود اپنے دستور کی پامالی کا بھی ارتکاب کیا،کشمیریوں کی شناخت اورکشمیریات کے تصورکو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری سمیت سب ظلم کے خاتمے کامطالبہ کرتے ہیں،کشمیریوں کے لیے تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور اقوام متحدہ اوردنیا کے بڑے ممالک نے بھارت کی مذمت کی۔وزیر خارجہ نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاریلاک ڈاؤن پرایک بھی مزید لمحہ عالمی برادر کے اجتماعی ضمیر پربوجھ ہے،عالمی برادری انسانی حقوق کے تحفظ کی حمایت میں ٹھوس کرداراداکرے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ‘فیکٹ فائنڈنگ مشن’ کو جموں وکشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حقائق کو بذات خود جان سکے،بھارت چھپانا نہیں چاہتا توعالمی میڈیا کواپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے اس پختہ عزم کا ایک مرتبہ پھر پاکستانی قوم کے عزم کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ استصواب رائے کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔








