مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا جلدحل دنیا کے مفاد میں ہے،معیشت کوآگے بڑھانے کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کرداراداکرنا ہوگا، سینیٹر محمداورنگزیب
مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا جلدحل دنیا کے مفاد میں ہے،معیشت کوآگے بڑھانے کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کرداراداکرنا ہوگا، سینیٹر محمداورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا جلدحل پاکستان،خطے اوردنیا کے مفاد میں ہے، بحران کے پہلے مرحلے کے اثرات سے نمٹنے کےلئے پاکستان نے معیشت کے حوالے سے بہترحکمت عملی مرتب کی تھی، معیشت کوآگے بڑھانے میں نجی شعبے کواپنا قائدانہ کرداراداکرنا ہوگا، دوسالوں میں دولاکھ 20ہزارسے زیادہ سرمایہ کار کیپٹل مارکیٹ میں شامل ہوئے ۔
بدھ کویہاں سکیورٹیزاینڈایکسچینج کمیشن(ایس ای سی پی)کے زیراہتمام کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ پردستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کےلئے پاکستان کی قیادت اپناکرداراداکررہی ہےاوران کوششوں کے اچھے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں،ہم سب اس بحران کے جلد ازجلدحل کےلئے دعاگو ہیں کیونکہ یہ پاکستان، خطے اوردنیا کے مفاد میں ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ مشرق وسطیٰ بحران کے پہلے مرحلے کے اثرات سے نمٹنے کےلئے پاکستان نے معیشت کے حوالے سے بہترحکمت عملی مرتب کی، اس دوران ہماری توجہ کرنٹ اکائونٹ، ادائیگیوں کے توازن اورمالیاتی نظام پرتھی، بحران کے دوسرے اورتیسرے مرحلے کے اثرات کامقابلہ کرنے کےلئے حکمت عملی کا جائزہ لیاجارہاہے تاہم اس کاانحصاربحران کی مدت اورشدت پرہوگا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ اس بحران کے دوران ہی پاکستان نے چارسال کے وقفے کے بعدبین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کی ، اس سے معیشت پرہمارے اوربین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ متحرک اورفعال کیپٹل مارکیٹس ترقی اورنمو کے انجن ہوتے ہیں،مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران سے یہ سبق سیکھا ہے کہ ہرملک کے پاس کمرشل اورسٹریٹجک ذخائرکاہونا ضروری ہے،سولر، ہوا اورمتبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پرتوجہ دیناہوگی،حکومت متبادل توانائی کے اہداف کے حصول کےلئے مالی وسائل کی فراہمی کےلئے تمام ترکوششوں کویقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بحران کاتیسرابڑاسبق خودانحصاری ہے، 2022میں آنےوالے سیلاب کے بعدپاکستان نے بین االاقوامی برادری سے امدادکی اپیل کی تھی ،جنیواکانفرنس کے دوران کئی ممالک اوراداروں نے نے پاکستان کےلئے مالی تعاون کے وعدے کیے جس میں سے بعض وعدوں پرعمل ہوا جبکہ باقی پرابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا، اس کے برعکس جب 2025میں سیلاب آیا تو اس سے تقریباً پوراپاکستان متاثر ہوا اوراس کی شدت بھی زیادہ تھی تاہم مالی وسائل اوراستعداد کی وجہ سے پاکستان نے ریسکیو، ریلیف اورتعمیرنو کےلئے بین الاقوامی برادی سے مددنہ لینے کافیصلہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ کلی معیشت کااستحکام بنیادی چیز ہے اوراس کے نتیجے میں مالی گنجائش پیداہوئی ۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ماحولیات اہم معاملہ ہے، ماحولیاتی اورموسمیاتی مالیات کےلئے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کاکرداربھی اہم ہے، حکومت بانڈز اورسکوک کے ذریعے اپناکرداراداکررہی ہے تاہم ترقی کا انجن ہونے کے ناطے نجی شعبے کوآگے بڑھ کراپنا کرداراداکرنا ہوگا،ہمیں مالیات کےلئےذرائع کومتنوع بنانے پرتوجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ مالی استحکام پرہماری توجہ مرکوز ہے، پاکستان عالمی اداروں کے تعاون سے مالی نظام کومزیدمضبوط بنارہاہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ گزشتہ دوسالوں میں دولاکھ 20ہزارسے زیادہ سرمایہ کار کیپٹل مارکیٹ میں شامل ہوئے ،ان میں ڈیجیٹل رسائی رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی اکثریت شامل ہے،مارکیٹ میں اتارچڑھائوکے باوجود صرف اپریل کے مہینے میں 24ہزارنئے سرمایہ کارمارکیٹ میں داخل ہوئے ،اس سے واضح ہورہاہے کہ ایکویٹی کے محاذ پرہماری سمت درست ہے، نوجوانوں میں مالیاتی خواندگی بڑھانے پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ ریگولیٹری ماحول کوبہتربنانے میں سکیورٹیز اینڈایکسچینج کمیشن کاکرداراہمیت کاحامل ہے،ہمیں مارکیٹ کی بنیادکومزیدگہرا اوروسیع کرنے پرتوجہ مرکوز کرنا ہوگی،ریگولیٹری ماحول کوجتنا سادہ اورآسان رکھا جائے اس سے بہتری آئے گی ،اس ضمن میں قانون سازی کے حوالے سے وزارت خزانہ اوروزارت قانون مل کرہرقسم کا تعاون فراہم کرنے کےلئے تیارہیں ۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ معیشت کوآگے بڑھانے میں نجی شعبے کواپنا قائدانہ کرداراداکرنا ہوگا، حکومت پالیسی سازی اورایکوسسٹم کی فراہمی پراپنی توجہ دے گی، اس ضمن میں نجکاری کمیشن کے تحت 28اداروں کی نجکاری کاعمل جاری ہے، پی آئی اے کی نجکاری ہوچکی ، اس نجکاری کے دوران ہمیں 1.2ارب ڈالرتک کی مقامی بولیاں موصول ہوئی تھیں، اس سے ملک میں سرمایہ کاری کی استعداد کی عکاسی ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کی مرحلہ وارنجکاری بھی جاری ہے، یہ تمام ایسی پیش رفتیں ہیں جن میں ایس ای سی پی کا موثرکردارمزید اجاگرہوتا ہے








