مشن 100 ارب ڈالر،اُڑان پاکستان کے تحت آٹھ ترجیحی شعبوں میں کلسٹرز کی بنیاد پر ترقی اور عالمی سپلائی چینز سے مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے ، پروفیسر احسن اقبال
مشن 100 ارب ڈالر،اُڑان پاکستان کے تحت آٹھ ترجیحی شعبوں میں کلسٹرز کی بنیاد پر ترقی اور عالمی سپلائی چینز سے مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے ، پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ملکی برآمدات 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ’’مشن 100 ارب ڈالر‘‘ کا لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُڑان پاکستان کے تحت آٹھ ترجیحی شعبوں میں کلسٹرز کی بنیاد پر ترقی اور عالمی سپلائی چینز سے مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے تاکہ ملک معاشی خودمختاری حاصل کرتے ہوئے اپنی ترقی کے لیے درکار وسائل خود پیدا کر سکے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکنامسٹس کی 39ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہوگا جو اپنی خوشحالی کے وسائل خود پیدا کرے، ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرے اور معاشی مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔انہوں نے تقابلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کیلنڈر سال 2024 میں پاکستان کی اشیا کی برآمدات تقریباً 32.3 ارب ڈالر رہیں جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات 47.2 ارب ڈالر، ملائیشیا کی 330.4 ارب ڈالر اور ویت نام کی 404.8 ارب ڈالر تھیں،ان میں خدمات کی برآمدات شامل نہیں ہیں ۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانا ضروری ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ پر قابو پایا جا سکے، اس مقصد کے لیے ایسے برآمدی کلسٹرز قائم کرنا ہوں گے جہاں پیداواری اداروں کو ماہر سپلائرز، ہنرمند افرادی قوت، جامعات، تحقیقی لیبارٹریوں، مالی وسائل، نقل و حمل کی سہولتوں اور بین الاقوامی خریداروں سے مربوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت زراعت، صنعت و مینوفیکچرنگ، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی، افرادی قوت و ہنرمندی، سمندری معیشت اور تخلیقی صنعتوں پر توجہ دی جائے گی، کلسٹرز کی منصوبہ بندی خریداروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے، سرمایہ کاری، تربیت، بنیادی ڈھانچے اور معیار کو عالمی منڈیوں میں دستیاب مواقع سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز میں شمولیت سے مقامی سپلائرز کی استعداد میں اضافہ، ملکی مصنوعات کی قدر میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے اور خصوصی اقتصادی زونز کو برآمدی پیداوار سے منسلک کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے پائیڈ اور کانفرنس کے شرکا پر زور دیا کہ وہ برآمدی کلسٹرز اور پیداواری زنجیروں کی ترقی کے لیے قابل عمل منصوبے تیار کریں جن میں ترجیحی مصنوعات، ہدفی منڈیوں، پیداواری استعداد میں کمی، ذمہ دار اداروں، اخراجات اور عمل درآمد کی مدت کی واضح نشاندہی کی جائے۔
پروفیسر احسن اقبال نے ایسی آزادانہ تحقیق کی اہمیت پر بھی زور دیا جو حکومتی مفروضوں کا جائزہ لے اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کو بہتر بنانے میں مدد دے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مشن 100 ارب ڈالر کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں پاکستانی عوام کے معیار زندگی اور روزگار میں آنے والی بہتری ہوگی۔







