پاکستان میں پائی جانے والی مختلف نادر اور قیمتی معدنیات کا تخمینہ 8 ٹریلین ڈالر ہے، معدنیات کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں 3.2 فیصد کا شراکت دار ہے۔ ملک میں پائی جانے والی معدنیات کے شعبہ سے حقیقی استفادہ کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ شعبہ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے 2 روزہ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2026، وفاقی دارالحکومت میں 12 اور 13 نومبر …
معدنیات کے قومی شعبہ کا تخمینہ 8 ٹریلین ڈالر ، 92 مختلف اقسام میں سے 52 معدنیات کی کمرشل بنیادوں پر کان کنی ممکن ، ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں پائی جانے والی مختلف نادر اور قیمتی معدنیات کا تخمینہ 8 ٹریلین ڈالر ہے، معدنیات کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں 3.2 فیصد کا شراکت دار ہے۔ ملک میں پائی جانے والی معدنیات کے شعبہ سے حقیقی استفادہ کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ شعبہ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے 2 روزہ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2026، وفاقی دارالحکومت میں 12 اور 13 نومبر کو شیڈول ہے۔ معدنیات کے شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں پائے جانے والی مختلف نادر اور قیمتی معدنیات کی مالیت کا تخمینہ 8 ٹریلین ڈالر ہے ۔
پاکستان میں 92 مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں سے 52 معدنیات کی کمرشل بنیادوں پر کان کنی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ سے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ حکومتی آمدن میں اضافہ اور روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز ، متبادل توانائی اور بیٹری سٹوریج سمیت ایڈوانس ٹیکنالوجیز کے تناظر میں معدنیات کی عالمی طلب میں روز بروز اضافہ کا رجحان ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان شعبہ میں نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ماہرین نےکہا کہ اس حوالہ سے اسلام آباد میں 12 اور 13 نومبر کو2روزہ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سمیت کان کنی کی عالمی کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبہ کی استعداد کے حوالہ سے2025 کے افتتاحی فورم میں 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار وفود نے شرکت کی تھی اور اس موقع پر مختلف اقسام کے 16 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے تھے اور توقع ہے کہ رواں سال کا ایونٹ بھی شعبہ سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔








