معرکہ حق نے گودی میڈیا کو دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب کر دیا ، شکست کے بعد امریکا سے بھارت کے تعلقات سربراہ مملکت سے وزارتی سطح پر آ گئے، دفاعی ماہرین کا ویبینار سے خطاب
معرکہ حق نے گودی میڈیا کو دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب کر دیا ، شکست کے بعد امریکا سے بھارت کے تعلقات سربراہ مملکت سے وزارتی سطح پر آ گئے، دفاعی ماہرین کا ویبینار سے خطاب
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے قومی اتحاد کے ساتھ بھارت کو جو سبق سکھایا اس سے دنیا میں بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا، جھوٹی خبریں پھیلانے کی وجہ سے بھارتی میڈیا دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب ہوا، بھارتی میڈیا میں جھول نظر آیا جس پر اب خود بھارت کے عوام بھی سوال اٹھا رہے ہیں، بھارت کے امریکا کے ساتھ تعلقات سربراہ مملکت سے اب وزارتی سطح پر آ گئے ہیں، دنیا کے اہم ممالک اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر بھارت کو اہمیت دیتے رہے جبکہ وہ چین کے مدمقابل کھڑے ہونے کی صلاحیت سے مکمل عاری ہے۔
بدھ کو معرکہ حق کی مناسبت سے انفارمیشن سروس اکیڈمی نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اسلام آباد کی شراکت سے ”سچ کا بیانیہ، قومی عزم سازی میں میڈیا کا کردار” کے موضوع پر ویبنار کا انعقاد کیا جس میں دفاعی ماہرین سمیت اہم شرکا نے معرکہ حق کے دوران میڈیا کی جانب سے پاکستان کے اتحاد، استحکام اور قومی جذبے کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ دفاعی ماہر میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ سال بھارت کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرکے سیز فائر کیا، بھارت کی یہ سازش تھی کہ پاکستان اس جنگ کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے فورسز کو دوسری سرحدوں پر منتقل کرے گا جہاں پر موقع سے فائدہ اٹھا کر دہشت گرد گروپ دہشت گردی کریں گے تاہم پاکستان نے اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے نہ صرف بیرونی حملے کے خلاف بھرپور دفاع کیا بلکہ اندرون ملک بھی ملکی سلامتی کو یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی ہی کا ثمر ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا، پاکستان کی مسلح افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مکمل طور پر چوکس ہیں، ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی اور نجی میڈیا نے معرکہ حق کے دوران شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، مئی 2025ء میں معرکہ حق میں نہ صرف عسکری محاذ پر پاکستان نے کامیابی حاصل کی بلکہ دنیا بھر میں اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔ سٹرٹیجک و سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ معرکہ حق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ بنیادی پر طور پر کیا تھا، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مختلف مواقع پر ایڈونچر کئے گئے، مودی انتخابی گیم کے طور پر اس ہتھیار کو استعمال کرتا آیا ہے، بھارت میں بسنے والے مسلمان، بنگلہ دیش اور پاکستان اس کا ہدف رہا ہے، دو روز قبل بنگال میں ہونے والے انتخابات اس کا ثبوت ہیں کہ وہ سیاسی مقاصد کیلئے اپنے فیصلے کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران دنیا نے بھارت کے اس بیانیے کو مسترد کیا جیسے وہ پاکستان پر دہشت گردی کی سپانسر شپ کا الزام لگاتا تھا، دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا بڑا شکار ہے، عالمی ادارے بھی پاکستان کو دہشت گردی سے شدید متاثر ممالک میں شمار کرتے ہیں، دنیا نے دہشت گردی کی بھارت کی تعریف کو تسلیم نہیں کیا، فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں کئے گئے آپریشن سندور کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم مودی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ یہ آپریشن جاری ہے تاہم جب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہوا ہے ایک گولی بھی نہیں چلی، خود بھارتی اعلیٰ حکام نے بھی اعلان کیا کہ آپریشن سندور مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دشمن قرار دینا بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی مفاد کیلئے مجبوری ہے، بھارت نےدو دہائیوں میں دنیا بھر سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدے، اس کے باوجود وہ مشکل صورتحال کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ سال مئی میں ہونے والی جنگ نے گودی میڈیا کو دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب کر دیا ہے، بھارتی میڈیا اور مودی سرکار بھارت کی ساکھ کی قیمت پر بھی سیاسی بیانیہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں نئی حکومت آنے کے بعد بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات حکومتی سطح سے وزارتی سطح پر آ گئے ہیں، یورپی یونین نے بھی اب اس کا اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے کہ جسے وہ بھارت کی جمہوریت سمجھتے تھے ویسا نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی سے متاثر ہو کر بہت نقصان اٹھایا ہے، اس کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم بطور قوم سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف جائیں۔ شاہد کیانی نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت وطن کے دفاع اور خود مختاری و سالمیت کے تحفظ کیلئے مستعد اور متحد ہیں، ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں، بھارت نے گذشتہ سال فالس فلیگ آپریشن کو بنیاد بنا کر یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، یہ پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بھارت کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کا الزام بغیر تحقیق کے لگانا اس کا وطیرہ ہے، پاکستان نے دہشت گردی کی ہر قسم کو مسترد کیا ہے جبکہ پاکستان نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تاہم اس کا بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی واقعہ کو بنیاد پر 6 اور 7 مئی کو آپریشن سندور کا آغاز کیا، پاکستان نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین اور پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیا، 10 مئی کو پاکستان کی جانب سے معرکہ حق کا آغاز کیا گیا اور دشمن کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، وزارت خارجہ کے حکام نے دن رات ایک کرکے دنیا کو ان حقائق سے آگاہ کیا، معرکہ حق کی کامیابی سے یہ واضح ہوا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے، عالمی میڈیا نے بھارت میں ہونے والے نقصانات اور اس کے تباہ ہونے والے جنگی جہازوں کی تصدیق کی، بھارت کی جانب سے دنیا بھر میں بغیر ٹھوس ثبوت کے پاکستان کو پہلگام حملے کا ذمہ دار قرار دینے کیلئے دنیا میں وفود بھیجے تاہم انہیں کوئی پذیرائی نہیں مل سکی اور نہ ہی وہ پاکستان پر یہ الزامات ثابت کر سکے۔
ریسرچ فیلو عمران سردار نے کہا کہ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خود مختاری اور سالمیت کے دفاع کا اہل ہے بلکہ وہ مستقبل میں بھی ایسے چیلنجوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، ہماری مسلح افواج نے یہ معرکہ ایمان اور یقین محکم کے ساتھ لڑا ہے۔ انفارمیشن سروس اکیڈمی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمینہ فرزین نے تاریخی معرکہ حق کی مناسبت سے منعقدہ ویبینار کو اہم سرگرمی قرار دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ انفارمیشن سروس اکیڈمی اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اسلام آباد مستقبل میں بھی اشتراک کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور ایسے مزید ایونٹس کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ویبینار کے دوران تمام شرکانے انتہائی مفید اور اہم نکات پیش کئے ہیں، میڈیا کے کردار کے حوالے سے اکیڈمی مزید سیشن کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر شعبہ کے اندر لیڈر شپ کی اہمیت ہے اسی طرح میڈیا میں بھی ذمہ دارانہ لیڈرشپ ضروری ہے، میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے اپنا اہم تزویراتی تجزیہ پیش کیا جس میں انہوں نے اہم نکات کا احاطہ کیا۔ ثمینہ فرزین نے کہا کہ تاریخی معرکہ حق میں پاکستان کی مسلح افواج اور متعلقہ اداروں نے اپنے اپنے شعبہ میں ذمہ داری سے خدمات سرانجام دیتے ہوئے بھرپور کامیابی حاصل کی جو قابل تعریف ہے۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔ اس دوران مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی فضائی طاقت، الیکٹرانک وار فیئر اور میزائل ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، ان عوامل کو سامنے رکھا جائے تو بھارت مستقبل میں بھی پاکستان کے خلاف کسی جارحیت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مزین ہیں، بھارتی میڈیا پاک-بھارت جنگ کے دوران اپنی حماقتوں اور جھوٹ و مکر کی وجہ سے دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب ہوا اور اپنی ساکھ کھو بیٹھا، یہاں تک کہ بھارتی میڈیا نے اس جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے کراچی پر قبضے کی جھوٹی خبریں بھی چلائیں، بھارتی میڈیا کے کردار سے ثابت ہوا کہ اس میں بہت جھول ہے، اب خود بھارتی عوام بھی اس پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ قمر چیمہ نے کہا کہ معرکہ حق سے بھارت کو سکھائے جانے والے سبق میں بھی ایک سبق ہے، دنیا بھر نے بھارتی جمہوریت کی دعویداری پر بھی سوال اٹھانے شروع کر دیئے ہیں، بھارت کا امریکا سے تعلق سربراہ مملکت سے وزارتی سطح پر آ گیا ہے جو سراسر بھارت کا نقصان ہے، عالمی دنیا اب اس حقیقت کا ادراک کر رہی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر بھارت کو اہمیت دیتے رہے کہ وہ چین کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم وہ اس سے مکمل عاری ہے۔
قمر چیمہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت میں اب یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کیوں دنیا میں اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیوں امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کا فیلڈ مارشل ناشتے کی میز پر بیٹھا ہے، گو کہ بھارت ایک بڑی مارکیٹ اور معیشت ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین سمیت دیگر ممالک اس کو اہمیت دیتے تھے تاہم اب دنیا کے سامنے اس کی سٹرٹیجک قابلیت کا تاثر تبدیل ہو گیا ہے، بھارتی میڈیا معرکہ حق کی کوریج کے دوران روتا پیٹتا رہا، اس نے حقائق پر مبنی کوریج نہیں کی۔









