انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل، پاکستان علماء کونسل اور ان کی حلیف دینی و مذہبی جماعتوں کی اپیل پر پاکستان، کویت اور مملکتِ سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں کے خلاف "یومِ مذمت منایا گیا۔جمعہ کے خطبات اور اجتماعات میں خطبا اور علمائے کرام نے سعودی عرب کی شہری آبادی، ہوائی اڈوں اور دفاعی تنصیبات پر حوثیوں کے متواتر حملوں اور بالخصوص گزشتہ روز مقدس ترین …
مقدس مقامات اور شہری آبادیوں پر حملوں کا کوئی بھی مذہبی، سیاسی، سفارتی یا اخلاقی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، علماء و مشائخ کا اجتماعات سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔16اکتوبر (اے پی پی):انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل، پاکستان علماء کونسل اور ان کی حلیف دینی و مذہبی جماعتوں کی اپیل پر پاکستان، کویت اور مملکتِ سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں کے خلاف "یومِ مذمت منایا گیا۔جمعہ کے خطبات اور اجتماعات میں خطبا اور علمائے کرام نے سعودی عرب کی شہری آبادی، ہوائی اڈوں اور دفاعی تنصیبات پر حوثیوں کے متواتر حملوں اور بالخصوص گزشتہ روز مقدس ترین شہر مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی مذموم و ناکام کوششوں پر تشویش اور رنج و غم کا اظہار کیا۔اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے جید علما ، مشائخ، خطبا اور واعظین نے ایک آواز ہو کر کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت، زائرینِ حرمین کا تحفظ اور بے گناہ انسانوں کی سلامتی پوری امتِ مسلمہ کے لئے عزیز اور مقدم ہے۔
مقدس مقامات اور شہری آبادیوں پر حملوں کا کوئی بھی مذہبی، سیاسی، سفارتی یا اخلاقی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ علمائے کرام نے کہا کہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے خلاف آواز بلند کرنا تمام مسلمانوں کا مشترکہ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔جمعہ کو جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار لاہور میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا محمد رفیق جامی (فیصل آباد)، مولانا نعمان حاشر (اسلام آباد)، مولانا اسعد زکریا قاسمی (کراچی)، مولانا محمد شفیع قاسمی (اوکاڑہ) اور تمام اضلاع میں موجود جلیل القدر علمائے کرام جن میں مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا ابو بکر حمید صابری، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا حق نواز خالد، مولانا عبید اللہ گورمانی، علامہ طاہر الحسن، مولانا حنیف عثمانی، مولانا محمد اصغر کھوسہ، مولانا انوار الحق مجاہد، مولانا عبد المالک آصف، مولانا اسلم صدیقی، مولانا عبد الحکیم اطہر، مولانا عبد اللہ حقانی، مولانا عبد الوحید فاروقی، مولانا ابو بکر حمزہ، مولانا حبیب الرحمن عابد، مولانا اظہار الحق خالد،
صاحبزادہ حمزہ طاہر الحسن، مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا انیس الرحمن بلوچ، مولانا عبد الرشید، مفتی محمد عمر فاروق، مولانا عبد الغفار شاہ حجازی، مولانا محمد احمد مکی، مولانا عزیز الرحمن معاویہ، مفتی عمران معاویہ، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا یاسر علوی، قاری عبدالرئوف، مولانا مطلوب مہار، مولانا زبیر کھٹانہ، قاری عزیز الرحمن، مولانا شبیر کھٹانہ، قاری عبد الماجد لاہوری، مولانا فاروق خانپوری، مولانا قاسم سانگی، مولانا اشرف ملک، مولانا اعجاز ملک، قاری عبد الوہاب معاویہ، مولانا محمد بلال ثاقب، قاری ابراہیم، قاری ریاض، مولانا امیر معاویہ، مہر عبد الخالق مرالی، مولانا منیب الرحمن حیدری، قاری محبت علی قاسمی، قاری ذوالقرنین، مولانا طیب قریشی، قاری محمود الحسن، قاری عبد الماجد ملک اور مولانا وقاص نے مشترکہ طور پر کیا۔ علمائے کرام اور مشائخ نے اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیا کہ یہ شہریوں کی بنیادی سلامتی، مقدساتِ اسلام کی حرمت اور عالمی امن کا معاملہ ہے۔
یمن کے مظلوم عوام اور مملکتِ سعودی عرب کے امن پسند شہری یکساں طور پر تحفظ، امن اور پُرسکون زندگی گزارنے کا کامل حق رکھتے ہیں ۔اس موقع پر پاکستان کے علماء و مشائخ نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت، مسلح افواج اور سعودی عوام کے ساتھ اپنی مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مملکتِ سعودی عرب کی ارضی سلامتی، خودمختاری، پائیدار استحکام اور حرمین شریفین کے دفاع کے لئے امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنے سعودی قیادت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اپنے ہر ممکن تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہے۔ علما نے زور دیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ صرف کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے پونے دو ارب مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس نازک موڑ پر پوری امت کو درپیش درپردہ سازشوں کے خلاف بے مثال اتحاد، بصیرت اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
مشترکہ اعلامیے میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سمیت تمام متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے بھی پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ شہری آبادیوں اور مقدس ترین مقامات کو لاحق شدید خطرات کا فوری نوٹس لیں۔ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ بے گناہ انسانوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن و امان کے قیام کے لئے فوری و مؤثر عملی اقدامات کئے جائیں۔ملک بھر میں منعقدہ اجتماعات کے اختتام پر مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی و ترقی، حرمین شریفین کی ابدی حفاظت، عالمِ اسلام میں امن و استوار، حوثی حملوں کے متاثرین کی آسانیاں اور زخمیوں کی عاجل و کامل صحت یابی کے لئے رقت آمیز دعائیں کی گئیں۔








