پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن تھا، پاکستان کی سرزمین کودہشتگردوں سے پاک کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔اتوار کو میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یادگار سانحہ کارساز پر حاضری دی، یادگار پر پھول رکھے اور شہداء کے ایصال ثواب و درجات کی بلندی کی دعا …
ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن تھا، پاکستان کی سرزمین کودہشتگردوں سے پاک کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی،بلاول بھٹو زرداری

مزید خبریں
کراچی،اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن تھا، پاکستان کی سرزمین کودہشتگردوں سے پاک کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔اتوار کو میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یادگار سانحہ کارساز پر حاضری دی، یادگار پر پھول رکھے اور شہداء کے ایصال ثواب و درجات کی بلندی کی دعا کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر کیا گیا جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دہشتگرد حملہ تھاجس میں سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنےآخری جلسہ میں بھی کہا تھا کہ کچھ قوتیں ہیں جو سوات میں پاکستان کا جھنڈا نہیں دیکھنا چاہتیں لیکن میں قوم سے وعدہ کرتی ہوں کہ ہم پاکستان کا جھنڈا سوات میں لہرائیں گے،2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تو ہم نے سوات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم آج ایک بار پھر ملک بھر میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، خیبر سے لے کے خضدار تک دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج اور پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشتگردی میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت عوام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہے اور ہم سب کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے اور پاکستان کے خلاف کسی کو سرکشی کی اجازت نہیں دیں گے۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 2007 میں وطن واپسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس دور میں یہ ایک مقبول نعرہ تھا کہ ” بینظیر آئے گی روزگار لائے گی”۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی فراہمی، بنیادی مسائل کے حل اور معاشی مشکلاتوں کے سدباب کے حوالے سے عوام شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعدپیپلز پارٹی پر یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوئی ہے کہ وہ روزگار کی فراہمی، معاشی مشکلات کے حل اور دہشتگردی جیسے ایشوز پر فوکس کرے۔ انہوں نے کہا کہ 2008 سے لے 2013 تک پیپلز پارٹی کی حکومت نے انہی چیزوں پہ فوکس کر کے ڈیلیور کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کے تدارک اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹورل نظام میں بہتری لانے کے لئے سب کو کوشش کرنی چاہیے،وفاقی حکومت نےکہا ہے کہ وہ الیکٹورل ریفارمز کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کرے گی، انہوں نے اپوزیشن کو ایک بار پھر دعوت دی کہ وہ ریفارمز کمیٹی میں اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم ہو تو ان کو وفاقی حکومت کے ساتھ انگیج ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپرومائز اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو اپنے لئے نہیں بلکہ ملک، قوم اور کارکنان کے لئے سوچتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بھی بعض اوقات کمپومائز کرنا پڑتا تھا۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ فیصل کریم کنڈی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے گورنر کے عہدے کے لئے نامزد کیا تھالیکن اب وہ آئینی طور پر وفاقی حکومت کے نمائندہ ہیں اور وہ وفاقی حکومت کو رپورٹ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے کہ آئین میں یہ پروسیجر موجود ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی اتفاق کرے کہ اس صوبہ میں مزید صوبے بنیں، تو پھر نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایمرجنسی نافذ کرنے کا معاملہ ہے تو پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے سے ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے، 2008ء سے لے کے 2013 کی حکومت میں، ہم نے بلوچستان میں ایمرجنسی لگائی تو تب بھی دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے لگائی تھی اور وہاں اپنی ہی حکومت کے خلاف گورنر راج نافذ کیا تھا،پاکستان پیپلز پارٹی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کو ہمیشہ اہم ترجیح سمجھتی ہے، اس لیے ہمارے قائدین اورکارکنوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت بھی دہشت گردوں کے حملوں سے متاثر ہوئی ہے، ان کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں، مولانا فضل الرحمن ہم پرسیاسی تنقید ضرور کریں لیکن دہشت گردوں کی بھی مذمت کریں،مولانا فضل الرحمان اگر کوشش کریں تو حکومت اور اپوزیشن میں ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ دہشت گردی کے ایشو پہ سیاست سے گریز کریں، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اقدام کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھڑو، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،صوبائی وزراء ارکان اسمبلی، بلدیاتی نمائندگان، پارٹی عہدیداران و کرکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔







